کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 526
’’ھذا جزاء من ترک الکتاب والسنۃ وأقبل علی الکلام‘‘[1] [کتاب وسنت کو چھوڑ کر کلام کی طرف متوجہ اور مائل ہونے والے کی یہی سزا ہے] اسی طرح قاضی ابو یوسف رحمہ اللہ نے کہا ہے: ’’من طلب الدین بالکلام تزندق‘‘[2] [جس نے علم کلام کے ذریعے دین کو طلب وحاصل کیا وہ زندیق ہو گیا] امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا ہے: ’’ما ارتدی أحد بالکلام فأفلح‘‘[3] [جس نے بھی علم کلام کی چادر اوڑھی وہ کامیاب نہیں ہوا] نیز انھوں نے علماے کلام کو زندقہ کہا ہے۔ [4] بہر حال معطل عابدِ عدم ہے اور ممثل عابدِ صنم ہے۔ یا یوں کہیے کہ معطل اندھا ہے اور ممثل ضعیف البصر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا دین تو غالی اور جافی کے درمیان ہے۔ جس طرح اس کی ذات پاک مخلوقات کی ذوات کی طرح نہیں ہے، اسی طرح اس کی صفات مخلوقات کی صفات کی طرح نہیں ہیں، بلکہ وہ جملہ صفاتِ کمال کے ساتھ موصوف اور ہر نقص، عیب اور زوال سے منزہ اور پاک ہے، صفاتِ کمال میں کوئی چیز اس کی مثل نہیں ہے۔ ہمارا مذہب وہی سلف کا مذہب اثبات بلا تشبیہ اور تنزیہ بلا تعطیل ہے، چنانچہ ائمہ اسلام اسی عقیدے پر گزرے ہیں، جیسے مالک، شافعی، ثوری، اوزاعی، ابن مبارک، امام احمد اور اسحاق بن راہویہs۔ سارے مشائخ کا بھی یہی اعتقاد تھا جیسے فضیل بن عیاض، ابو سلیمان دارانی اور سہل تستری وغیرہ۔ اصولِ دین کی بابت ان ائمہ کے درمیان کوئی نزاع نہیں تھا۔ اسی طرح امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے جو اعتقاد ثابت ہے، وہ بھی مذکورہ ائمہ کے اعتقاد کے موافق ہے اور کتاب وسنت بھی اسی کے ساتھ ناطق ہے۔ امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا ہے: [1] حلیۃ الأولیاء (ص: ۶/۱۱۶) تاریخ جرجان للسحمي (ص: ۱۳۶) [2] ذم الکلام (ص: ۲۳۱) [3] درء التعارض لابن تیمیۃ رحمه اللّٰه (۷/۱۴۷) نیز حلیۃ الأولیاء لأبي نعیم (۹/۱۱۱) میں یہ قول امام شافعی رحمہ اللہ کے حوالے سے بھی مروی ہے۔ [4] إحیاء علوم الدین (۱/۱۶۴)