کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 520
انیسویں فصل کتاب ’’قطف الثمر في بیان عقیدۃ أہل الأثر‘‘[1] کے مطابق اہلِ حدیث کے عقائد کا بیان اصحابِ حدیث وسنت اس کے قائل ہیں کہ آدمی اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، کتابوں پر اور رسولوں پر ایمان لائے۔ ایمان باللہ میں ان اوصافِ الٰہیہ پر تحریف، تعطیل، تکییف، تمثیل اور تاویل کے بغیر ایمان لانا ہے جو کتاب وسنت میں بیان ہوئے ہیں۔ اہلِ حدیث اللہ پر، اس کے اسماے حسنی اور صفاتِ علیا پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کی نفی نہیں کرتے، اللہ تعالیٰ نے اپنے نفس کا جو وصف بیان کیا ہے کلمات کی ان کی جگہوں سے تحریف نہیں کرتے اور نہ اس کے اسما وصفات میں الحاد کرتے ہیں، نہ اس کی صفات کو مخلوق کی صفات کی طرح کہتے ہیں اور نہ اس کی تعطیل کرتے ہیں، کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا کوئی ہمنام ہے نہ کفو، اس کا ہمسرہے نہ اسے اس کی مخلوق پر قیاس کیا جا سکتا ہے، اس کی شان تو یہ ہے: ﴿ لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْئٌ وَھُوَ السَّمِیْعُ البَصِیْرُ﴾[الشوریٰ: ۱۱] [اس کی مثل کوئی چیز نہیں اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے] اللہ تعالیٰ اپنے نفس کا اور اپنے غیر کا عالم ہے اور وہ اصدق القیل اور اصدق الحدیث ہے۔ اس کے رسول صادق مصدوق ہیں۔ وہ اور لوگ ہیں جو جانے بوجھے بغیر اس کے حق میں کچھ کہہ دیتے ہیں۔ اسی لیے اس نے فرمایا ہے: ﴿سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ * وَسَلٰمٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَ * وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ﴾[الصافات: ۱۸۰] [پاک ہے تیرا رب، عزت کا رب، ان باتوں سے جو وہ بیان کرتے ہیں۔ اور سلام ان پر [1] یہ مولف رحمہ اللہ کی عقیدہ سلف سے متعلق عربی تصنیف ہے۔