کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 517
کا حساب کتاب لے گا۔ ایک فریق جنت میں ابد الآباد تک رہے گا اور دوسرا فریق سعیر میں مخلد ہو گا۔ ارشاد ہوتا ہے: ﴿ فَضُرِبَ بَیْنَھُمْ بِسُورٍ لَّہٗ بَابٌ﴾[الحدید: ۱۳] [پھر ان کے درمیان ایک دیوار بنادی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہو گا] جس نے یہ کہا کہ وہ آگ میں ہمیشہ نہیں رہے گا وہ خطا کار ہے۔ ایک قوم صرف عذاب کا مزا چکھنے کو ہی آگ میں وارد ہو گی اور دوسری قوم قدرے قلیل آگ میں رہے گی۔ کچھ لوگ بقدر ذنوب آگ میں ٹھہریں گے۔ اہلِ بدع کا حال اہلِ کبائر کے حال کی طرح ہو گا، وہ آگ میں ہمیشہ نہیں رہیں گے۔ حدیث میں آیا ہے کہ یہ امت تہتر (۷۳) فرقے ہو جائے گی، بہتر (۷۲) فرقے آگ میں جائیں گے اور ایک جنت میں۔ [1] یہ جزوِ واحد اہلِ سنت وجماعت ہیں۔ اس حدیث میں اہلِ بدعت کا اس امت سے ہونا ثابت کیا گیا ہے۔ آگ میں داخل ہونے سے اس میں ہمیشہ رہنا لازم نہیں آتا۔ رہا فرقہ ناجیہ تو وہ بالکل عذاب نہیں چکھے گا۔ ان کا آگ میں داخلہ صرف قسم پوری کرنے کے لیے ہو گا، جب کہ باقی لوگ آگ میں جا کر پھر نکلیں گے۔ اس لیے ہم اس امر کے معتقد نہیں ہیں کہ نمازی، روزے دار، حج کرنے والا اور زکات دینے والا آگ میں ہمیشہ رہے گا خواہ وہ گناہ کبیرہ اور بدعت کا مرتکب ہو۔ ہمارا ایک اعتقاد یہ ہے کہ انبیا قیامت کے دن شفاعت کریں گے۔ ان کی سفارش سے ایک خلق آگ سے باہر آئے گی۔ اولیا اور مومنین کے لیے بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے مراتب کے مطابق شفاعت وجاہ ہو گی۔ ہم اس کے بھی معتقد ہیں کہ پل صراط حق ہے، جو بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہے۔ ترازو بھی حق ہے، اس کے د و پلڑے اور ایک لسان ہے۔ میزان میں اعمال کا وزن ہونا اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سامنے کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ تجھے بس یہی جواہر واعراض معلوم ہیں، اس لیے تو وزن اعراض سے تعجب کرتا ہے، اور وزن کے قائل پر ہنستا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جسے اقدار کے اسرار وعجائب پر اطلاع بخشی ہے، وہ تیرے اس قصور عقل پر خندہ زن ہے اور تیری رکاکتِ فہم پر عیب گیر ہے۔ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ فَالْیَوْمَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنَ الْکُفَّارِ یَضْحَکُوْنَ﴾[المطففین: ۳۴] [1] سنن الترمذي، رقم الحدیث (۲۶۴۱)