کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 50
شرک اصغر شرکِ اکبر میں تبدیل ہو جاتا ہے، جیسے ریا کاری اور شہرت طلبی کو شرکِ خفی فرمایا گیا ہے۔ جب خلوص جاتا رہے اور صرف ریا کاری اور شہرت طلبی باقی رہ جائے تو ریاکار مشرک بن جاتا ہے یا جیسے شیخ کا تصور شرک اکبر پر منتج ہوتا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ شرک کے ستر (۷۰) دروازے ہیں[1] اور بدعت کے بہتر (۷۲) ہیں۔ قرآن و سنت نے شرک و بدعت کو ہر معصیت و نافرمانی کا سر چشمہ قرار دیا ہے۔ جب کسی آدمی کے عقیدے میں خلل پیدا ہو جاتا ہے تو اس کے دل میں گناہ کا کوئی ڈر باقی نہیں رہتا۔ قبر پرستی اور پیر پرستی کے شرک کی ترویج کے لیے شیطان کا دھوکا: گور پرستوں کو شیطان نے سب سے بڑا دھوکا یہی دیا ہے کہ تم تو اللہ کے اولیا اور صلحا کی تعظیم کرتے اور ان سے محبت کرتے ہو۔ ان کی نذر و نیاز دینے اور منت ماننے سے قیامت کے دن وہ تمھارے سفارشی بن جائیں گے۔ یہ تو بالکل شرک نہیں ہے، شرک تو تب ہوتا جب تم ان کو آسمان و زمین کی تخلیق میں اللہ کا شریک سمجھتے۔ اس طرح ان احمقوں کے دل نے ابلیس کے اس مشورے کو پسند کر کے قبول کر لیا اور شیطان کے تابع بن کر ایمان جیسی نعمت کو مال خرچ کر کے برباد کر بیٹھے اور یہ نہ سمجھا کہ قرآن و سنت کے احکام صرف انہی لوگوں کے لیے خاص نہیں تھے جن کے متعلق قرآن اترا تھا یا حدیث میں کچھ بیان ہوا تھا، بلکہ یہ احکام تا قیامِ قیامت ہر مسلمان کے حق میں عام ہیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو قرآن کا معجزہ باقیہ ہونا بے اصل ہو جائے گا، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میں نے تم میں دو چیزیں چھوڑی ہیں، جب تک تم ان کو پکڑے رکھو گے گمراہ نہ ہو گے: ایک اللہ کی کتاب اور دوسری رسول کی سنت۔[2] دورِ حاضر کے لوگوں کا قرآن و حدیث سے عجیب سلوک: امت کے لوگوں نے قرآن و حدیث کے ساتھ یہ سلوک کیا کہ قرآن کے عوض شرک اور سنت کے بدلے میں بدعت پسند کر لی۔ ان کے نزدیک قرآن فقط اس لیے ہے کہ اسے گھر کے طاق یا الماری یا صندوق میں ’’محفوظ‘‘ کر کے رکھا جائے اور لوگوں کے سامنے یہ بیان کیا جائے کہ ہمارے [1] مسند البزار (۵/۳۱۸) [2] المستدرک للحاکم (۱/۱۷۲)