کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 486
اہلِ سنت کے مذکورہ بالا تینوں گروہوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ اللہ تعالیٰ واحد حقیقی ہے، وہ اپنا کوئی شریک، ضد، ند، شبیہ اور مثل نہیں رکھتا ہے، کیونکہ ان چیزوں کی گنجایش واحد عددی میں متصور ہوتی ہے نہ کہ واحد حقیقی میں۔ اللہ تعالیٰ جسم نہیں ہے، کیونکہ جسم دو یا دو سے زیادہ چیزوں سے بنتا ہے۔ وہ جوہر بھی نہیں ہے، کیونکہ جوہر کسی چیز میں متحیز ہوتا ہے۔ وہ عرض بھی نہیں ہے کیونکہ عرض دو زمان تک باقی نہیں رہتا۔ عبارات واشارات حق تعالیٰ کی کنہ کے بیان کو نہیں پہنچتے اور افکار وابصار اسے نہیں پا سکتے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا وجود زمان ومکان سے پہلے ہے اور صفتِ کیفیت وکمیت سے منزہ، ان میں جو چیز آ سکتی ہے وہ واحد عددی ہوتی ہے نہ کہ واحد حقیقی۔ اس پر اجماع ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات بھی جسم، جوہر اور عرض نہیں ہیں بلکہ ویسی ہیں جیسے اس کی ذات۔[1] ائمہ کشف اور اساطینِ مشاہدہ کے سامنے اسما وصفات ایک معنی میں دو مترادف لفظ ہیں۔[2] ساداتِ طریقت اور خزنۂ اسرارِ وحدت، جنھوں نے مشکات نبوت سے اقتباس کیا ہے، انھوں نے یہ بات دیکھی اور جانی ہے کہ صفاتِ حق ایک وجہ سے عینِ ذات ہیں اور دوسری وجہ سے غیرِ ذات۔ عینِ ذات تو اس وجہ سے ہیں کہ کوئی دوسرا موجود نہیں ہے جو مغائر ذات ہے اور غیرِ ذات اس وجہ سے ہیں کہ اس کے مفہومات علی الاطلاق مختلف ہیں۔ حی، عالم، مرید اور قادر ایسے اسما ہیں کہ ان کے معانی ذاتِ قدیم کے ساتھ قائم ہیں۔ اہلِ بصیرت کے سامنے اسما علی الحقیقت وہی معنی قدیم ہیں۔ یہ اسما کے الفاظ اسما ہیں۔ اس طرح کے اسما کو صفات ثبوتی کہتے ہیں۔ یہ چاروں نام الوہیت کے چار رکن ہیں۔ رہے معز، مذل، محی، ممیت، معطی، مانع، ضار اور نافع تو یہ نام نسبت سے اٹھتے ہیں اور اس نوع کو صفات اضافی کہتے ہیں۔ سلام، قدوس اور غنی میں عیوب، نقائص اور احتیاج کا سلب [1] اس بات سے دل نہایت قلق میں ہے کہ اہلِ علم کے یہ بیان کردہ الفاظ ایسے عام ہو گئے ہیں جو اکثر علما، صوفیہ اور فقہا کی زبان و قلم سے بے تکلف نکل جاتے ہیں۔ ہم یہ تو نہیں کہتے کہ ان الفاظ کا مضمون ومدلول خلافِ تنزیہ ہے، تاہم یہ کہتے ہیں کہ تقدیس کے وہ الفاظ جو کتاب و سنت میں منصوص ہیں جو برکت، قوت اور بیان ان میں ہے وہ متکلمین کے ان تراشیدہ الفاظ میں نہیں ہے۔ ہمارے لیے یہی مناسب ہے کہ باری تعالیٰ کی تنزیہ وتقدیس انہی الفاظ سے کریں جو قرآن و حدیث میں آئے ہیں، ہم اسی میں اپنی عافیت جانتے ہیں۔ [مولف رحمہ اللہ ] [2] یعنی صفت عین اسم ہے، حالانکہ ہمیں اس معنی میں خوض کرنے کی کچھ حاجت نہیں ہے اور نہ ہمیں یہ کہنا چاہیے کہ صفات ایک وجہ سے عین اور دوسری وجہ سے غیر ہیں۔ [مولف رحمہ اللہ ]