کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 462
دینے والی ذات تک پہنچ جاتے ہیں اور یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ان جمادات کی حرکت بذاتہ نہیں، بلکہ انھیں اپنی مرضی کے مطابق کوئی حرکت دینے والی ذات ہے۔ اسی طرح وہ اصحابِ عقل ودانش، جن کی بصیرت میں شریعت کا سرمہ ہے، جانتے ہیں کہ ایک ممکن دوسرے ممکن کو، گو وہ منجملہ افعال میں سے کوئی فعل ہو یا منجملہ اعراض کے کوئی عرض ہو، پیدا نہیں کر سکتا ہے۔ ہاں افعالِ اختیاریہ اور جمادات کی حرکت میں اتنا [قدرے] فرق ثابت ہے اور اس کے ساتھ ایمان لانا واجب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کو قدرت وارادے کی ایک شکل عطا فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عادت یوں ہی جاری ہے کہ جب کوئی بندہ کسی فعل کا قصد وارادہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس فعل کو پیدا کر دیتا اور وجود میں لے آتا ہے۔ اسی ارادہ و قدرت کی بنیاد پر بندے کو ’’کاسب‘‘ [اپنے ارادے اور اختیار سے کام کرنے والا] کہتے ہیں اور اس پر مدح، ذم، ثواب اور عذاب مرتب ہوتا ہے۔ حرکتِ جماد اور حرکتِ حیوان کے درمیان فرق کا انکار کرنا کفر ہے، نیز یہ شرع اور عقل کے خلاف ہے۔ غیر اللہ کو کسی چیز کا خالق جاننا بھی کفر ہے۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرقہ قدریہ کو اس امت کا مجوس قرار دیا ہے۔[1] اللہ تعالیٰ کسی چیز میں حلول کرتا ہے اور نہ کوئی چیز اس میں حلول کرتی ہے۔ وہ ذاتی احاطے کے ساتھ ساری اشیا کو گھیرے ہوئے ہے اور اشیا کے ساتھ قرب اور معیت رکھتا ہے،[2] لیکن وہ احاطہ و قرب ایسا نہیں ہے جو ہم اپنی ناقص سمجھ کے مطابق سمجھ لیتے ہیں کہ اس طرح کا احاطہ اور قرب ذاتِ باری تعالیٰ کے شایانِ شان نہیں ہے۔ کشف و مشاہدہ کے ذریعے [صوفیہ] جو کچھ معلوم کرتے ہیں وہ اس سے بھی منزہ ہے۔ لہٰذا انسان کو چاہیے کہ وہ غیب پر ایمان لائے، رہے مکشوف و مراقبہ تو وہ سب مشابہ اور مماثل کوئی چیز ہے، چنانچہ وہ اسے لائے نفی کے نیچے رکھے، [صوفیہ] حضرات نے اسی طرح فرمایا ہے۔ ہمیں اس پر ایمان لانا چاہیے کہ حق تعالیٰ جملہ اشیا کو محیط ہے اور قریب ہے۔ ہم اس کے [1] سنن أبي داؤد، رقم الحدیث (۴۶۹۱) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۹۲) [2] یہ کہنا کہ احاطے سے مراد قرب و معیت ذاتی ہے، یہ ائمہ سلف کے بالکل خلاف ہے اور دوسرا عقیدہ کہ قرب و معیت سے مراد علم ہے، اس میں اختلاف ہے۔ ائمہ سلف متقدمین اور عامہ محدثین و مفسرین آیات کے سیاق کے مطابق معیت، قرب اور احاطے کی تفسیر علم و معونت وغیرہ سے کرتے ہیں، لیکن بعض محققین متاخرین نے تحقیق کے بعد یہ ثابت کیا ہے کہ قرب اور معیت وغیرہ آیات کی علم، معونت اور نصر وغیرہ سے تاویل کرنے کی ضرورت نہیں ہے، فقط ان پر ایمان لانا ہی کافی ہے۔ رہی یہ بات کہ اللہ تعالیٰ ذات کے اعتبار سے قریب و ہمراہ ہے یا صفت کے اعتبار سے تو اس کا علم اسی ذاتِ باری تعالیٰ کو ہے۔ واللہ اعلم۔ [مولف رحمہ اللہ ]