کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 451
سلامتِ فطرت اور کمال اخلاق وغیرہ۔ 16۔ انبیاء علیہم السلام کفر اور کبائر سے محفوظ ہیں اور فواحش اور قبائح پر اصرار کرنے سے معصوم ہیں۔ اللہ تعالیٰ تین طرح پر ان کی عصمت فرماتا ہے۔ ایک یہ کہ انھیں سلامتِ فطرت اور اخلاق کے کمالِ اعتدال پر پیدا کرتا ہے اور انھیں سرے ہی سے معاصی میں کوئی رغبت نہیں ہوتی، بلکہ وہ معاصی سے متنفر رہتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ وہ انھیں اس بات کی وحی کرتا ہے کہ معاصی پر عقاب کیا جاتا ہے اور طاعات پر ثواب دیا جاتا ہے، چنانچہ یہ وحی انھیں معاصی سے روکتی اور باز رکھتی ہے۔ تیسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کوئی لطیفہ غیبی پیدا فرما کر ان رسولوں اور ان معاصی کے درمیان حائل ہو جاتا ہے، جس طرح یوسف علیہ السلام کے قصے میں یعقوب علیہ السلام کی صورت ظاہر ہوئی تھی۔[1] 17۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی نہ ہو گا۔ ان کی دعوت سارے انسانوں اور جنوں کے لیے عام ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس خاصے اور دیگر خواص کی وجہ سے انبیا میں سب سے افضل نبی اور رسول ہیں۔ 18۔ اولیا کی کرامات حق ہیں۔ اولیا وہ مومن ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کی صفات کے عارف اور اپنے ایمان میں محسن ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے، اس کا اکرام کرتا ہے، چنانچہ اس کا ارشاد ہے: ﴿وَ اللّٰہُ یَخْتَصُّ بِرَحْمَتِہٖ مَنْ یَّشَآئُ﴾[البقرۃ: ۱۰۵] [اور اللہ اپنی رحمت کے ساتھ جسے چاہتا ہے خاص کر لیتا ہے] 19۔ ہم عشرہ مبشرہ، فاطمہ، خدیجہ، عائشہ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم کے لیے جنت اور خیر کی گواہی دیتے ہیں اور تمام صحابہ واہل بیت کی توقیر وتعظیم کرتے ہیں اور اسلام میں ان کے بہت بڑے مقام کے معترف ہیں۔ اسی طرح ہم اہلِ بدر اور اہلِ بیعت رضوان کے لیے جنت کی شہادت دیتے ہیں۔ 20۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ امامِ حق ہیں۔ پھر عمر، عثمان اور پھر علی رضی اللہ عنہم ہیں اور اس [1] قرآن کریم میں فقط اتنا آیا ہے: ﴿لَوْ لَآ اَنْ رَّاٰ بُرْھَانَ رَبِّہٖ﴾ [یوسف: ۲۴] [اگر یہ نہ ہوتا کہ اس نے اپنے رب کی دلیل دیکھ لی] رہی یہ بات کہ وہ ’’برہان‘‘ یعقوب علیہ السلام کی صورت تھی یا کوئی اور چیز تو کسی حدیث میں اس کا ذکر نہیں آیا ہے۔ ہمارے لیے بس رویتِ برہان پر ایمان لانا کافی ہے، اس کی تعیینِ مراد کی کوئی حاجت وضرورت نہیں۔ کما قال الشوکاني رحمه اللّٰه في فتح القدیر۔ [مولف رحمہ اللہ ]