کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 448
میں منحصر سمجھتے ہیں۔ رویتِ الٰہی کی دوسری قسم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت سی صورتوں میں متمثل ہو، جس طرح حدیث میں آیا ہے۔ اس وقت اہلِ ایمان اسے شکل، لون اور آمنے سامنے اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے، جس طرح خواب میں واقع ہوتا ہے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی خبر دی ہے: (( رَأَیْتُ رَبِّيْ فِيْ أَحْسَنِ صُوْرَۃٍ )) [1] [میں نے اپنے رب تعالیٰ کو بہترین صورت میں دیکھا] پس جو کچھ وہ دنیا میں خواب کے اندر دیکھتے ہیں، وہاں اسے حقیقتاً دیکھیں گے۔ ہم رویت کی انہی دو وجہوں کو سمجھتے اور اعتقاد کرتے ہیں۔ اگر اللہ اور رسول کی مراد اس رویت سے مذکورہ دو وجہوں کے سوا کچھ اور ہو تو ہم ایمان لاتے ہیں، اگرچہ ہمیں بعینہ وہ مراد معلوم نہ ہو۔ 4۔ اللہ تعالیٰ نے جو چاہا سو ہوا اور جو نہ چاہا نہ ہوا۔ سارے کفر اور معاصی اسی کی خلق اور ارادے سے ہوتے ہیں نہ کہ اس کی رضا سے۔ وہ اپنی ذات وصفات میں کسی چیز کا محتاج ہے اور نہ کوئی اس پر حاکم ہے اور نہ کوئی چیز کسی کے واجب کرنے سے اس پر واجب ہوتی ہے۔ ہاں وہ وعدہ کر کے پورا کرتا ہے، جس طرح حدیث میں آیا ہے: (( فَھُوْ ضَامِنٌ عَلَی اللّٰہِ )) [2] [پس وہ اللہ کے ذمے ہے] اس کے سارے افعال حکمت کو متضمن ہیں، چنانچہ فرمانِ الٰہی ہے: ﴿اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰکُمْ عَبَثًا﴾[المؤمنون: ۱۱۵] [تو کیا تم نے گمان کر لیا کہ ہم نے تمھیں بے مقصد ہی پیدا کیا ہے؟] وہ افعال ایسی مصلحت کلیہ کو متضمن ہیں جسے بس وہی جانتا ہے۔ اس پر کسی جزئی خاص کا لطف یا اصلح خاص واجب نہیں۔ اس سے کوئی قبیح فعل صادر ہوتا ہے اور نہ وہ اپنے فعل وحکم میں کسی جور و ظلم کی طرف منسوب ہو سکتا ہے، بلکہ خلق وامر میں حکمت کی رعایت فرماتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ کسی چیز سے اپنے نفس کو مستکمل کرتا ہو یا اسے کوئی حاجت وغرض لگی ہو، کیونکہ یہ ضعف اور قبح ہے۔ اس کے سوا کوئی حاکم نہیں ہے۔ عقل کو اشیا کے حسن وقبح میں کوئی حکم اور دخل نہیں ہے اور نہ اس بات میں کوئی دخل ہے کہ ثواب وعقاب میں فعل سبب کیوں ہے، بلکہ اشیا کا حسن و قبح اللہ تعالیٰ کی قضا و حکم سے [1] سنن الترمذي، رقم الحدیث (۳۲۳۴) [2] سنن أبي داؤد، رقم الحدیث (۲۴۹۴) سنن الترمذي، رقم الحدیث (۱۶۲۰) سنن ابن ماجہ (۲۷۵۴)