کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 446
چودھویں فصل شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کے ’’حسن عقیدہ‘‘[1] کا بیان حمد ونعت کے بعد شاہ صاحب رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ میں اللہ اور ملائکہ، جن اور انس کو جو حاضر ہیں، گواہ کرتا ہوں کہ تہ دل سے میرا یہ عقیدہ ہے: 1۔ اس جہاں کا ایک قدیم صانع ہے جو ہمیشہ تھا اور ہمیشہ رہے گا۔ اس کا وجود واجب اور اس کا عدم محال ہے۔ وہ کبیر ومتعال اور تمام صفاتِ کمال سے متصف ہے۔ وہ ساری صفاتِ نقص و زوال سے منزہ ہے، ساری مخلوقات کا وہی خالق ہے، جمیع معلومات کا عالم ہے، سارے ممکنات پر قادر ہے، جمیع کائنات کا مرید ہے، وہ سمیع وبصیر ہے، اس کا کوئی شبہ ہے نہ ضد اور نہ مثل۔ 2۔ اس کے وجوبِ وجود میں کوئی شرکت رکھتا ہے نہ استحقاق عبادت اور خلق و تدبیر میں کوئی اس کا شریک ہے۔ عبادت یعنی انتہا درجے کی تعظیم کا وہی مستحق ہے، وہی مرض سے شفا دیتا، رزق عطا کرتا اور ضرر کو دور کرتا ہے نہ کہ کوئی اور۔ جب وہ کسی چیز کو ’’کن‘‘ کہتا ہے تو وہ ہو جاتی ہے، لیکن اس معنی میں نہیں کہ یہ عام ظاہری اور عادی سبب کی طرح ہوتا ہے، جس طرح لوگ کہا کرتے ہیں کہ طبیب نے بیمار کو شفا دی اور امیر نے لشکر کو رزق دیا، کیونکہ یہ اور بات ہے، اگرچہ لفظ میں مماثلت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا کوئی ظہیر یعنی پشت پناہ نہیں ہے، وہ اپنے غیر میں حلول کرتا ہے اور نہ کسی غیر کے ساتھ متحد ہوتا ہے۔ اس کی ذات کے ساتھ کوئی حادث قائم ہے اور نہ اس کی ذات میں کسی طرح کا حدوث ہے۔ حدوث تو متعلقاتِ صفات کے ساتھ تعلق صفات میں ہے، اسی سے افعال وجود پذیر ہوتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ تعلق بھی حادث نہیں ہے، بلکہ حادث تو معَلَّق ہے۔ اسی جگہ سے متعلقات کے تفاوت کے حسب حال احکامِ تعلق کا ظہور [1] اس سے مراد شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ کی کتاب ’’الاعتقاد الصحیح‘‘ ہے، جس کی مولف رحمہ اللہ نے ’’الانتقاد الرجیح‘‘ کے نام سے شرح لکھی ہے۔