کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 440
عام لوگوں کے ساتھ برابر ہیں اور حقیقت اور ذات میں سب باہم متحد ہیں، لیکن صفاتِ کاملہ کے اعتبار سے ان کو دوسرے انسانوں پر فضلیت حاصل ہے؟ جس میں صفاتِ کاملہ نہیں ہیں، گویا وہ اس نوع سے خارج اور اس کے فضائل و خصائص سے محروم ہے، لیکن اس تفاوت کے باوجود نفسِ انسانیت میں زیادتی و کمی واقع نہیں اور یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس کی انسانیت زیادتی اور نقصان کے قابل ہے۔ واللّٰہ سبحانہ الملھم للصواب۔ اسی طرح بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ تصدیقِ ایمانی سے مراد ان کے نزدیک تصدیق منطقی ہے جو ظن اور یقین میں دونوں کو شامل ہے، اس صورت میں نفسِ ایمان میں کمی و زیادتی کی گنجایش ہے، لیکن صحیح یہی ہے کہ اس جگہ تصدیق سے مراد یقین و اذعانِ قلبی ہے نہ کہ عام معنی میں جس میں ظن بھی شامل ہے۔ امام اعظم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: أنا مؤمن حقا [میں یقینا مومن ہوں] امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ’’أنا مؤمن إن شاء اللّٰہ تعالی‘‘ [میں مومن ہوں اگر اللہ تعالیٰ چاہے] حقیقت میں ان کا یہ اختلاف نزاعِ لفظی ہے۔ مذہبِ اول کا تعلق ایمانِ حال سے ہے اور مذہبِ ثانی کا تعلق مآل و عاقبتِ کار سے ہے، لیکن صورتِ استثنا سے پرہیز کرنا اولی و احوط ہے، کما لا یخفی علی المنصف۔[1] 20۔ اولیاء اللہ کی کرامات حق ہیں۔ ان سے بہ کثرت خوارقِ عادات واقع ہونے کی وجہ سے ان کی یہ بات دائمی عادت بن گئی ہے۔ کرامات کا انکار کرنے والا علم عادی اور ضروری کا انکار کرنے والا ہے۔ نبی کا معجزہ نبوت کے دعوے سے مِلا ہوا ہوتا ہے اور ولی کی کرامت اس معنی میں خالی ہے، بلکہ اس نبی کی پیروی کے اعتراف کے ساتھ ملی ہوئی ہوتی ہے۔ فلا اشتباہ بین المعجزۃ والکرامۃ کما زعم المنکرون۔ 21۔ خلفاے راشدین کے درمیان افضلیت کی ترتیب خلافت کی ترتیب کے مطابق ہے، لیکن شیخین کی افضلیت صحابہ اور تابعین کے اجماع سے ثابت ہوتی ہے، چنانچہ اکابرین ائمہ کی ایک جماعت نے، جن میں امام شافعی رحمہ اللہ بھی ہیں، اس بات کو نقل کیا ہے کہ امام ابو الحسن اشعری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت پھر عمر رضی اللہ عنہ کی فضیلت بقیہ تمام امت پر قطعی [1] نہیں! بلکہ استثنا ہی اولیٰ واحوط ہے۔ اس کی تقریر امام غزالی اور دیگر علماے ربانی نے بجائے خود اچھی طرح کی ہے اور جب اس مسئلے میں نزاع لفظی ممکن ہے تو پھر عدمِ استثنا کی کوئی وجہ احوط واولی نہیں ہے، واللّٰه اعلم۔ [مولف رحمہ اللہ ]