کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 431
اس آیتِ کریمہ میں بھی وعدہ خلافی کی نفی ہوتی ہے اور خلفِ وعید کی بھی،[1] لہٰذا آیتِ مذکورہ شیخ کے خلاف ہے تائید میں نہیں، اسی طرح وعید میں خلاف ہونا بھی وعدہ خلافی کے مانند جھوٹ کو مستلزم ہے اور یہ اس کے شایانِ شان نہیں ہے، کیونکہ جب وہ ازل ہی میں جانتا تھا کہ کفار کو دائمی عذاب نہیں دوں گا، تو پھر باوجود اس کے کسی مصلحت کی بنا پر اپنے علم کے خلاف فرما دیا کہ میں ان پر دائمی عذاب مسلط کر دوں گا۔ اس بات کو جائز کرنا نہایت ہی برا ہے: ﴿ سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ﴾[الصافات: ۱۸۰] [تمھارا بڑی عزت والا رب ان باتوں سے پاک ہے جو یہ بیان کرتے ہیں] کفار کے لیے دائمی عذاب کے نہ ہونے پر اہلِ دل (صوفیہ) کا اجماع صرف شیخ کا اپنا کشف ہے اور کشف میں خطا اور غلطی کی بہت گنجایش ہے، خصوصاً وہ کشف جو مسلمانوں کے اجماع کے مخالف ہو، اس لیے اس کا کچھ اعتبار و اعتماد نہیں ہے۔ 18۔ فرشتے، خداوند جل سلطانہٗ کے بندے ہیں جو گناہوں سے پاک اور خطا و نسیان سے بھی محفوظ ہیں، جیسا کہ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ لاَیَعْصُونَ اللّٰہَ مَآ اَمَرَھُمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ﴾[التحریم: ۶] [اللہ تعالیٰ جو حکم ان کو کرتا ہے وہ اس میں اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو ان کو حکم ہوتا ہے] وہ کھانے پینے اور مرد و زن ہونے سے منزہ اور مبرا ہیں۔ قرآن مجید میں ان کے لیے مذکر ضمیروں کا استعمال اس اعتبار سے ہے کہ صنفِ ذکور کو صنفِ نسا کے مقابلے میں شرف حاصل ہے، چنانچہ حق سبحانہٗ و تعالیٰ نے اپنی ذات کے لیے بھی مذکر ضمیروں کا استعمال کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بعض [1] بلا شبہہ جمہور اہلِ علم کا یہی مسلک ہے۔ بعض حنفیہ جیسے ملا علی قاری وغیرہ خلفِ وعید کی طرف گئے ہیں اور کہتے ہیں: و إني إذا أوعدتہ أو وعدتہ فمخلف میعادي و منجز موعدي [اور بلا شبہہ جب میں اس سے وعدہ کروں یا اسے دھمکی دوں، تو میں اپنی دھمکی کی خلاف ورزی اور اپنے وعدے کو پورا کرنے والا ہوں] لیکن یہ نزاع، نزاع لفظی کی طرف راجع ہو سکتا ہے۔ فتأمل۔ [مولف رحمہ اللہ ]