کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 422
سب جزاؤں سے بہتر اور اعلیٰ درجے کی ہو اور وہ دائمی نعمتوں اور لذتوں میں رہنا ہے۔ بعض مشائخ نے فرمایا ہے کہ درحقیقت بہشت میں داخل ہونا محض اللہ تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے اور اس کو ایمان کے ساتھ مربوط کرنا اس وجہ سے ہے کہ اعمال کی جزا لذیز ترین معلوم ہو۔ اس فقیر کے نزدیک حقیقتاً بہشت میں داخل ہونا ایمان کی وابستگی پر موقوف ہے، لیکن ایمان بھی اس اللہ تعالیٰ کا فضل اور عطیہ ہے۔ جہنم میں داخل ہونا کفر کے ساتھ وابستہ ہے اور کفر نفسِ امارہ کی خواہشات سے پیدا ہوتا ہے۔ فرمانِ خداوندی ہے: ﴿ وَ مَآ اَصَابَکَ مِنْ سَیِّئَۃٍ فَمِنْ نَّفْسِکَ﴾[النسآئ: ۷۹] [جو کوئی بھلائی تجھے پہنچتی ہے سو اللہ کی طرف سے ہے اور جو کوئی برائی تجھے پہنچے سو تیرے نفس کی طرف سے ہے] بہشت کے داخلے کو ایمان کے ساتھ مربوط کرنا حقیقت میں ایمان کی تعظیم اور تکریم ہے، بلکہ ’’مومن بہ‘‘ یعنی جس پر ایمان لایا گیا ہے، اس کی تعظیم ہے۔ جس پر اس قدر بڑا عظیم الشان اجر مرتب ہوا ہے۔ اسی طرح دوزخ میں داخل ہونے کو کفر کے ساتھ وابستہ کرنے میں کفر کی تحقیر ہے اور اس ذات کی تعظیم ہے جس کی نسبت یہ کفر وقوع میں آیا اور اس پر اس طرح کا دائمی عذاب مترتب ہوا برخلاف اس بات کے جو بعض مشائخ نے کہی ہے وہ اس دقیقے سے خالی ہے۔ نیز دوزخ میں داخل ہونا بھی انصاف کے تقاضے پر ہے اور کوئی مثال اس طرح پر جاری نہیں ہے، کیونکہ جہنم میں داخل ہونا حقیقت میں کفر کے ساتھ مربوط ہے۔ و اللّٰہ سبحانہ الملھم۔ 11۔ اہلِ ایمان آخرت میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو بے جہت،[1] بے کیف اور بے شبہ و بے مثال جنت میں دیکھیں گے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس میں اہلِ سنت کے علاوہ تمام اہلِ ملت اور غیر اہلِ ملت سب اس کے منکر ہیں اور بے جہت و بے کیف رویت کو جائز نہیں سمجھتے، حتی کہ شیخ محی الدین بن العربی رحمہ اللہ بھی آخرت کی رویت کو تجلی صوری کے ساتھ بیان کرتے ہیں اور اس تجلی صوری کے علاوہ کچھ تجویز نہیں کرتے۔ ایک روز ہمارے حضرت(خواجہ باقی باللہ رحمہ اللہ)شیخ سے نقل کرتے تھے کہ اگر معتزلہ رویت کو [1] ان الفاظ مخترعہ اور مباحث کلامیہ کی تردید گذشتہ صفحات میں گزر چکی ہے۔