کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 414
کبیرا [اللہ تعالیٰ ان باتوں سے بہت بلند اور سب سے بڑا ہے] 6۔ اللہ تعالیٰ تمام صفاتِ نقص اور حدوث کے تمام نشانات سے منزہ اور مبرا ہے۔ جس طرح وہ جسم و جسمانی نہیں ہے مکانی و زمانی بھی نہیں ہے، بلکہ تمام صفاتِ کمال اسی کے لیے ثابت ہیں، جن میں سے آٹھ صفاتِ کمال وجود ذاتِ باری تعالیٰ پر وجودِ زائد کے ساتھ موجود ہیں۔[1] وہ آٹھ صفات یہ ہیں: 1۔ حیات 2۔ علم 3۔ قدرت 4۔ ارادہ 5۔ سمع 6۔ بصر 7۔کلام 8۔تکوین. یہ صفات خارج میں موجود ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ وجودِ ذات پر وجودِ زائد کے ساتھ علم میں موجود ہیں اور خارج میں نفسِ ذات تعالیٰ و تقدس ہیں، جیسا کہ بعض صوفیہ وجودیہ نے گمان کیا ہے اور کہا ہے: از روئے تعقل ہمہ غیر اند صفات با ذاتِ تو از روئے تحقق ہمہ عین [عقل کہتی ہے تیری ساری صفات اغیار ہیں۔ سچ یہ ہے کہ وہ تیری ذات کے ساتھ عین ہیں] کیونکہ اس میں حقیقتِ صفات کی نفی ہے، اس لیے صفات کی نفی کرنے والے یعنی معتزلہ اور فلاسفہ نے بھی اسے تغائر علمی اور اتحاد خارجی کہا ہے۔ انھوں نے تغایر علمی سے انکار نہیں کیا اور یہ نہیں کہا کہ علم کا مفہوم عین مفہومِ ذات تعالیٰ و تقدس ہے، یا عین مفہومِ قدرت و ارادہ ہے، بلکہ عینیت وجودِ خارجی کے اعتبار سے کہا ہے، لہٰذا جب تک یہ صوفیہ وجودِ خارجی کے تغایر کا اعتبار نہ کریں، صفات کے انکار کرنے والوں میں سے نہیں نکلتے، کیونکہ تغایرِ اعتباری کچھ نفع نہیں دیتا۔ 7۔ اللہ تعالیٰ قدیم اور ازلی ہے اور اس کے سوا کسی کے لیے ’’قِدَم وازل‘‘ ثابت نہیں تمام ملتوں کا اس پر اجماع ہے۔ جو شخص بھی حق جل و علا کے سوا کسی غیر کے قدم وازلیت کا قائل ہوا، وہ کافر ہے۔ امام غزالی رحمہ اللہ نے اسی وجہ سے ابنِ سینا اور فارابی اور ان جیسے عقائد والوں کی تکفیر کی ہے، کیونکہ یہ لوگ عقول و نفوس کے قدم کے قائل ہیں اور ہیولیٰ اور صورت کے قدیم ہونے کا گمان رکھتے ہیں، نیز انھوں نے آسمانوں کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، ان کو بھی قدیم جانا ہے۔ [1] ائمہ حدیث کے نزدیک یہ بحث کہ صفات زائد علی الذات ہیں یا نہیں؟ اسے ترک کر دینا ہی اولیٰ ہے۔ کیوں کہ اس مسئلے میں کتاب و سنت بالکل خاموش ہیں، واللہ تعالیٰ أعلم بذاتہ وصفاتہ۔ [مولف رحمہ اللہ ]