کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 401
جس نے علی رضی اللہ عنہ سے لڑائی کی، جیسے معاویہ، طلحہ اور زبیر تو اصل میں وہ عثمان رضی اللہ عنہ کا انتقام اور قصاص کا مطالبہ کرنے والے تھے، کیونکہ انھیں ظلماً شہیدکیا گیا تھا اور یہ قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ لشکر مرتضوی میں شامل تھے، لہٰذا ان میں سے ہر ایک کی تاویل صحیح اور درست تھی۔ سب سے بہتر یہ ہے کہ ہم ان سے متعلق اپنی زبانوں کو روک کر رکھیں اور ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیں جو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے اور ہم خود اپنے عیوب و نقائص کی اصلاح اور ظاہر و باطن کی صفائی میں مشغول رہیں۔ رہی خلافتِ معاویہ رضی اللہ عنہ تو وہ علی رضی اللہ عنہ کی وفات اور حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی خلافت سے دست بردار ہونے کے بعد ثابت اور صحیح ہے۔ پس معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت حسن رضی اللہ عنہ کے معاہدے کے ساتھ صحیح ہو گئی اور اس سال کا نام جماعت ٹھہرا، کیونکہ اس سال سب کے درمیان سے اختلاف اٹھ گیا، اور سب کے سب معاویہ رضی اللہ عنہ کے تابع ہو گئے اور امرِ خلافت میں کوئی جھگڑنے والا باقی نہ رہا۔ معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت کا ذکر اس حدیث میں ہے: (( تَدُوْرُ رُحَی الْإِسْلَامِ خَمْساً وَّ ثَلَاثِیْنَ أَوْ سِتًّا وَّ ثَلَاثِیْنَ أَوْ سَبْعاً وَّثَلَاثِیْنَ )) [1] [اسلام کی چکی پینتیس یا چھتیس یا ستائیس سال گھومے گی] اس حدیث میں چکی گھومنے سے مراد قوتِ دین ہے۔ یہ پانچ برس جو تیس برس سے جدا ہیں، یہ من جملہ خلافت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہیں، انیس سال اور چند ماہ تک، کیونکہ تیس برس کو علی رضی اللہ عنہ نے پورا کیا تھا۔ ہمیں نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے ساتھ حسن ظن ہے اور ہمارا یہ اعتقاد ہے کہ وہ مومنوں کی مائیں ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا جہان کی تمام عورتوں سے افضل ہیں، اللہ تعالیٰ نے ملحدین کے قول سے انھیں بری کیا، جس کی تلاوت قیامت تک ہوتی رہے گی۔ اسی طرح فاطمہ رضی اللہ عنہا جہانوں کی عورتوں سے افضل ہیں، ان کی موالات اور محبت ویسے ہی واجب ہے جیسے ان کے باپ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت واجب ہے۔ پس یہی اہلِ قرآن ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر کتابِ عزیز میں کیا ہے اور ان پر ثنا فرمائی ہے۔ یہی مہاجرین وانصار ہیں جنھوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز ادا کی ہے۔ آیتِ کریمہ: ﴿ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗٓ اَشِدَّآئُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآئُ بَیْنَھُمْ تَرٰھُمْ [1] سنن أبي داؤد، رقم الحدیث (۴۲۵۴)