کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 389
ہے۔ امام احمد رحمہ اللہ نے علی الاطلاق کہا ہے کہ ایمان حدیثِ جبریل علیہ السلام، جو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی روایت سے مرفوعاً مروی ہے، کے مطابق غیر اسلام ہے۔ حدیثِ جبریل میں اسلام، ایمان اور احسان کی تعریف الگ الگ آئی ہے اور اس حدیث کے آخر پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: (( فَإِنَّہٗ جِبْرِیْلُ أَتَاکُمْ یُعَلِّمُکُمْ دِیْنَکُمْ۔ وَفِيْ لَفْظٍ: لِیُعَلِّمَکُمْ أَمْرَ دِیْنِکُمْ )) [1] [بلا شبہہ وہ جبریل تھا جو تمھیں تمھارا دین سکھانے آیا تھا، ایک حدیث میں ہے: وہ تمھارے پاس اس لیے آیا ہے تا کہ تمھیں تمھارے امر دین کی تعلیم دے] ایک حکایت: امام احمد رحمہ اللہ سے کسی نے پوچھا تھا کہ ایمان مخلوق ہے یا غیر مخلوق تو انھوں نے جواب میں فرمایا: جس نے ایمان کو مخلوق کہا وہ کافر ہے، اس لیے کہ اس میں قرآن کے ساتھ ایہام و تعریض ہے، اور جس نے کہا کہ وہ غیر مخلوق ہے وہ مبتدع ہے کیونکہ اس میں اس بات کا ایہام ہے کہ راستے سے تکلیف دہ چیز کا ہٹانا اور افعالِ ارکان مخلوق نہیں ہیں۔ غرض کہ امام رحمہ اللہ نے دونوں جماعتوں پر انکار کیا۔ اس مذہب کی وجہ یہ ہے کہ امام احمد رحمہ اللہ کے طریقے کی بنیاد اس بات پر ہے کہ جس چیز کے ساتھ قرآن ناطق نہیں ہوا اور نہ وہ چیز سنت وحدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہوئی، اسی طرح صحابہ کا دور گزر گیا اور ان میں سے کسی ایک سے بھی یہ قول منقول نہ ہوا تو اس چیز کے متعلق کلام کرنا بدعت ہے۔ انتھیٰ۔ میں کہتا ہوں: یہ قاعدہ بہت سے آفاتِ عقائد سے امن وعافیت بخشتا ہے۔ ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ اس ضابطے کو مضبوطی سے پکڑ کر ان امور میں بحث، کلام اور خوض کرنے سے باز رہے جن میں صحابہ، تابعین اور تبع تابعین رضی اللہ عنہم نے خاموشی اختیار کی تھی۔ اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ ایسا شخص ہالک نہ ہو گا اور ایمان کی سلامتی کے ساتھ دنیا سے جائے گا۔ 7۔ مومن کو یہ سمجھنا جائز نہیں کہ ’’أنا المؤمن حقا‘‘ [میں حق سچ مومن ہوں] بلکہ اس کے لیے واجب یہ ہے کہ یوں کہے ’’أنا المؤمن إن شاء اللّٰہ ‘‘ [ان شاء اللہ میں مومن ہوں] معتزلہ کے خلاف کیونکہ وہ قولِ اول کو جائز کہتے ہیں۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا ہے: [1] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۸) سنن الترمذي، رقم الحدیث (۴۹۹۰)