کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 361
وجد بلا وقت کے یہ معنی ہیں کہ ہر وقت میں حق کا مشاہدہ کرے نہ یہ کہ ایک وقت میں مشاہد ہو اور دوسرے وقت میں مشاہد نہ ہو۔ 26۔ اسلام عام ہے اور ایمان خاص، بعض نے کہا ہے کہ دونوں ایک ہیں۔ کسی نے کہا ہے کہ اسلام ظاہر اور ایمان باطن ہے۔ بعض نے کہا کہ اسلام تحقیقِ ایمان ہے اور ایمان تصدیقِ اسلام اور بعض نے کہا ہے کہ ایمان تحقیق واعتقاد ہے اور اسلام خصوع و انقیاد۔ انتھیٰ۔ میں کہتا ہوں: حدیثِ صحیح میں اسلام، ایمان اور احسان کا وصف جدا جدا بیان ہوا ہے، وہی صحیح اور درست ہے۔ جس چیز کے فرق کا فیصلہ خود شارع نے کر دیا ہے ہمیں اس میں زائد خوض کرنا کوئی ضروری نہیں ہے۔ 27۔ مذاہب شریعت کے بارے میں صوفیہ رحمہم اللہ کا قول یہ ہے کہ وہ فقہا کے درمیان اختلافی مسئلہ میں اپنے لیے احوط اور اوثق کو اخذ کرتے ہیں اور جہاں تک ممکن ہو فریقین کے اجماع پر چلتے ہیں اور فقہا کے اختلاف کو درست جانتے ہیں اور ان میں سے کوئی دوسرے پر اعتراض نہیں کرتا۔ ان کے نزدیک ہر مجتہد مصیب ہے[1] اور جس شخص نے شرع میں ایک مذہب کا اعتقاد کیا ہے اور وہ مذہب اس طور پر اس کے نزدیک صحیح ہوا کہ اس کا مثل کتاب وسنت کی دلالت کے ساتھ صحیح ہوتا ہے اور وہ شخص اہلِ استنباط بھی ہے تو وہ اعتقاد مذکور میں مصیب ہے اور جو شخص اہلِ اجتہاد سے نہیں ہے تو وہ مفتی کا قول اخذ کرے، جس کسی فقیہ کو اس کا دل اعلم جانتا ہو تومفتی کا یہ قول اس کے لیے حجت ہے انتھیٰ۔ مگر اس بات میں تامل ہے۔ 28۔ ان کا اس بات پر اجماع ہے کہ یقین کے ساتھ وقت پر نماز کی تعجیل افضل ہے اور نمازی تمام مفروضات کو وجوب کے وقت عجالتاً ادا کرے اور اس میں تقصیر وتاخیر اور تفریط روا نہ رکھے، مگر کسی عذر کے ساتھ، البتہ سفر میں نماز قصر کرے اور جو شخص ہمیشہ سفر میں رہے اور اس کا کوئی مقر اور ٹھکانہ نہ ہو تو وہ پوری نماز پڑھا کرے۔[2] سفر میں روزہ رکھنا اور افطار کرنا دونوں جائز ہیں۔ [1] یہ قول مرجوح ہے۔ راجح بات یہ ہے کہ حق ایک ہی ہوتا ہے، متعدد نہیں۔ اس جگہ اگر یوں کہا جاتا کہ ہر مجتہد ثواب یافتہ ہے تو درست ہوتا، کیوں کہ مجتہد کو خطا پر بھی ایک اجر ملتا ہے، جس طرح صواب پر اسے دوہرا اجر ملتا ہے۔ [مولف رحمہ اللہ ] [2] ہمیں اس قول کی کوئی دلیل نہیں ملی۔ ظاہر حدیث جو مطلق سفر کے بارے میں آتی ہے، وہ اسی کا تقاضا کرتی ہے کہ سفر میں قصر کرنا ہی عزیمت ہے۔ [مولف رحمہ اللہ ]