کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 311
بلکہ محض کلامِ نفسی ہے۔[1] 7۔ اس کا کلام قدیم ہے۔ 8۔ اس کا علم قدیم ہے، وہ اپنی ذات ،صفات اور سارے محدثات کا دائماً عالم ہے۔ 9۔ اس کا ارادہ قدیم ہے، ہر حادث جس وقت حادث ہوتا ہے تو وہ گذشتہ علم کے موافق قِدم ہی میں اس کے ساتھ متعلق ہو چکا ہے۔ 10۔ وہ علم کے ساتھ عالم اور حیات کے ساتھ حی ہے اور اس کی ساری صفات کا یہی حال ہے۔ افعالِ الٰہیہ کے ارکان: اللہ تعالیٰ کے افعال کے دس ارکان ہیں: 1۔ ہر حادث اسی کا فعل اور اختراع ہے، بندوں کے تمام افعال اسی کی مخلوق ہیں۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَاللّٰہُ خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ﴾[الصافات: ۹۶] [حالانکہ اللہ ہی نے تمھیں پیدا کیا اور اسے بھی جو تم کرتے ہو] اس کی قدرت تام و مکمل ہے، اس میں کوئی قصور اور نقص نہیں ہے۔ 2۔ وہ بندوں کے افعال کا مخترع ہے، اس سے یہ بات خارج نہیں ہوتی ہے کہ وہ افعال جو بندوں کے مقدر میں لکھے ہوئے ہیں، وہ ان کے کسب کردہ اور کمائے ہوئے نہ ہوں، بلکہ قدرت و مقدور اور اختیار و مختار کا خالق وہی اللہ ہے۔ یہ قدرت اللہ کا وصف اور بندے کا کسب ہے۔ حرکت اللہ کی مخلوق اور بندے کا وصف و کسب ہے۔ یہ اس تفرقہ ضروریہ کا جبر نہیں ہے جو حرکت مقدورہ اور رعدہ ضروریہ کے درمیان ہے۔ 3۔ بندے کا فعل اگرچہ اس کا کسب ہے، لیکن وہ اللہ کے ارادے سے ہے، کوئی چیز اس کے قضا و قدر، ارادے اور مشیت کے بغیر جاری نہیں ہوتی خواہ وہ خیر ہو یا شر، اسلام ہو یا کفر، غوایت ہو یا رشد، طاعت ہو یا عصیان اور یہی حال ہے سارے متقابلات کا، ﴿یُضِلُّ مَنْ یَّشَآئُ وَ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ﴾[النحل: ۹۳] [1] کلام اللہ کے کلامِ نفسی ہونے پر قرآن مجید یا سنت یا سلف یا اجماعِ امت سے کوئی دلیل ثابت نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کا کلام حرف و صوت ہے، اگرچہ وہ مخلوق کے حرف و صوت کے مثل نہیں۔ احادیثِ صحیحہ اسی پر دلالت کرتی ہیں۔ حرف و صوت کا انکار کرنا محض اہلِ کلام کا قال وقیل ہے۔ [مولف رحمہ اللہ ]