کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 309
ہیں جو سمجھتے ہیں] جسے تھوڑی سی بھی عقل ہے وہ جانتا ہے کہ یہ جہاں جو اس ترتیبِ محکم پر واقع ہے، اس کا ضرور کوئی صانع مدبر ہے۔ اسی طرح عقل اس پر دلیل ہے کہ یہ جہاں حادث ہے اور حادث اپنے حدوث میں سبب سے بے نیاز نہیں ہوتا، بنا بریں عالم بھی سبب سے مستغنی نہیں ہے۔ دوسری اصل: حق تعالیٰ کا قِدم ہے، کیونکہ اگر وہ حادث ہوتا تو کسی محدث کی طرف مفتقر ہوتا، پھر وہ محدث کسی اور محدث کا محتاج ہوتا، پھر یہی تسلسل رہتا یا کسی قدیم کی طرف منتہی ہوتا۔ لہٰذا وہ ہی قدیم صانعِ عالم ہے۔ تیسری اصل: حق تعالیٰ کا بقا ہے، کیونکہ اگر وہ منعدم ہوتا تو بنفسہ ہوتا یا کسی معدم سے، اول باطل ہے اور اسی طرح ثانی بھی۔ چوتھی اصل: اللہ تعالیٰ جوہر متحیز نہیں ہے۔ پانچویں اصل: اللہ تعالیٰ جواہر سے مولف جسم نہیں ہے۔ چھٹی اصل: وہ عرض نہیں ہے۔ ساتویں اصل: وہ جہات کے ساتھ مختص نہیں ہے، کیونکہ جہات مخلوق ہیں۔ [1] آٹھویں اصل: وہ اسی معنی میں عرش پرمستوی ہے جو معنی اس کی مراد ہے اور یہ اس کے وصفِ کبریا کے [1] ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ یہ الفاظ مبتدع ہیں، خواہ ان کے معانی صحیح ہوں۔ جہتِ فوق، علو اور استوا کتاب و سنت سے ثابت ہیں، اس لیے ان کا انکار قرآن و حدیث کا انکار ہے۔ [مولف رحمہ اللہ ]