کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 302
چھٹی فصل امام محمد تستری رحمہ اللہ کی تالیف کتاب ’’إحیاء الإحیائ‘‘ کے مطابق امام غزالی رحمہ اللہ کے عقائد کا بیان ہر دو کلمہ شہادت میں اہلِ سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ پہلے کلمے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو یہ بات بتائی ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ واحد ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ وہ فرد ہے، کوئی اس کا مثل نہیں، صمد ہے کوئی اس کا ضد نہیں۔ منفرد ہے کوئی اس کا نِد نہیں۔ قدیم ہے اس کے لیے اول نہیں۔ ازلی ہے اس کے لیے نہایت نہیں۔ مستمر الوجود ہے، اس کے لیے آخر نہیں۔ ابدی ہے اس کے لیے نہایت نہیں، قیوم ہے اس کے لیے انقطاع نہیں، دائم ہے اس کے لیے انصرام نہیں۔ ہمیشہ سے ہمیشہ تک نعوتِ جلال کے ساتھ موصوف ہے، اس پر انقضا، تغیر اور زوال کا حکم جاری نہیں ہو سکتا ہے۔ وہی اول ہے اور وہی آخر، وہی ظاہر ہے اور وہی باطن۔ تنزیہ: وہ جسم ہے نہ جسم کی مانند ہے، وہ جوہر ہے نہ عرض اور نہ کسی موجود کی مانند ہے اور نہ کوئی موجود اس کی مانند ہے، وہ مقدار سے محدود ہو سکتا اور نہ امکنہ، جہات اور اقطار اس پر حاوی ہو سکتی ہیں۔ وہ عرش پر مستوی ہے جس طرح اس کے لائق ہے۔ عرش اسے نہیں اٹھاتا، بلکہ اس کی قدرت عرش اور حاملینِ عرش کو اٹھائے ہوئے ہے۔ وہ فوقیتِ مکانیت کے ساتھ نہیں، بلکہ فوقیتِ مکانت کے ساتھ ہر چیز سے بالا ہے۔[1] وہ ہر موجود سے قریب ہے اور ہر شے پر شہید۔ وہ کسی چیز میں حلول کرتا ہے نہ کوئی چیز اس میں حلول کرتی ہے۔ وہ توزمان ومکان سے قبل تھا اور اس وقت بھی اسی حال پر ہے [1] یہ معانی صحیح ہیں، لیکن یہ الفاظ مبتدع ہیں۔ سورۃ الاخلاص اور آیت الکرسی کے ہوتے ہوئے ان الفاظ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی تنزیہ یا وصف بیان کرنا بے فائدہ ہے۔ ہمیں صفات کا اجرا اس طرح کفایت کرتا ہے جس طرح وہ کتاب و سنت میں بیان ہوا ہے۔ [مولف رحمہ اللہ ]