کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 283
21۔ معراج کی خبر حق ہے اور اسے رد کرنے والا بدعتی ہے۔ دجال اور یاجوج وماجوج کا نکلنا، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، عیسی علیہ السلام کا آسمان سے نزول فرمانا اور قیامت کے دن کی تمام علامات اور نشانیاں، جس طرح اخبار صحیحہ میں بیان ہوئی ہیں، حق ہیں اور ضرور ہوں گی۔ و اللّٰہ تعالیٰ یھدي من یشاء إلیٰ صراط مستقیم۔ فقہ اکبر کا ترجمہ مکمل ہوا۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی اپنے اصحاب کے نام ایک وصیت: امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے فقہ اکبر کی مذکورہ عبارت کے بعد اپنے اصحاب کے نام وصیت میں اپنی بیماری کے وقت یہ لکھا تھا کہ اہلِ سنت وجماعت کے مذہب میں بارہ خصلتیں ایسی ہیں جو شخص ان خصال پر مستقیم رہے گا وہ بدعتی اور خواہش کا بندہ نہ ہو گا۔ لہٰذا تم اس پر جمے رہو، کیونکہ اس کی وجہ سے قیامت کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمھاری سفارش کریں گے۔ وہ بارہ خصلتیں درج ذیل ہیں: 1۔ ایمان کا مطلب ہے زبان سے اقرار کرنا اور دل سے تصدیق کرنا۔[1] خالی اقرار کا نام ایمان نہیں ہے، کیوں کہ اگر یہ ایمان ہوتا تو سارے منافق مومن ہوتے۔ اسی طرح خالی معرفت ایمان نہیں ہے کیوں کہ اگر یہ ایمان ہوتی تو سارے اہلِ کتاب مومن ہوتے، جبکہ اللہ تعالیٰ نے منافقوں کے حق میں کہا ہے: ﴿ وَاللّٰہُ یَشْھَدُ اِِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَکٰذِبُوْنَ﴾[المنافقون: ۱] [اور اللہ شہادت دیتا ہے کہ بلاشبہہ یہ منافق یقینا جھوٹے ہیں] اور اہلِ کتاب کے حق میں کہا ہے: ﴿ یَعْرِفُوْنَہٗ کَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآئَ ھُمْ﴾[البقرۃ: ۱۴۶] [اسے پہچانتے ہیں جیسے وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں] ایمان بڑھتا ہے نہ کم ہوتا ہے[2] کیونکہ ایمان میں تبھی کمی آئے گی جب کفر زیادہ ہوگا اور ایمان میں زیادتی بھی اس وقت متصور ہو گی جب کفر میں کمی آئے گی پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک شخص ایک ہی حالت میں مومن اور کافر ہو۔ مومن کے ایمان میں کوئی شک نہیں ہے، جس طرح کافر کے کفر [1] ائمہ سلف کے اجماع سے یہ بات ثابت ہے کہ ایمان میں اقرار و تصدیق کے ساتھ عمل بھی شامل ہے۔ دیکھیں: شرح أصول اعتقاد أھل السنۃ للالکائي (۱/۱۷۶) [2] تقدم الکلام علی ذلک۔ [اس پر کلام گزر چکا ہے] [مولف رحمہ اللہ ]