کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 277
2۔ قرآن اللہ کا کلام ہے، جو مصاحف میں لکھا ہوا ہے، دلوں میں محفوظ ہے، زبانون سے پڑھا جاتا ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا ہے۔ قرآن مجید کے ساتھ ہمارا تلفظ مخلوق ہے۔ اسی طرح ہمارا اسے لکھنا مخلوق ہے اور ہمارا اسے پڑھنا مخلوق ہے۔[1] قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ وغیرہ انبیاء علیہم السلام اور فرعون و ابلیس سے جو کچھ نقل کیا ہے، وہ سب اس کا کلام ہے، اس نے ہمیں اس کی خبر دی ہے، اللہ کا کلام مخلوق نہیں ہے، البتہ موسیٰ علیہ السلام وغیرہ کا کلام مخلوق ہے۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے نہ کہ ان لوگوں کا۔ موسی علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کا کلام سنا جس طرح اس نے فرمایا ہے: ﴿وَ کَلَّمَ اللّٰہُ مُوْسٰی تَکْلِیْمًا﴾[النسائ: ۱۶۴] [اور اللہ نے موسیٰ سے کلام کیا، خود کلام کرنا] اللہ تعالیٰ اس حال میں بھی متکلم تھا جب تک موسیٰ علیہ السلام سے بات نہ کی تھی۔ وہ ازل میں خالق تھا، جب تک کہ مخلوق پیدا نہ کی تھی۔ پھر جب موسیٰ علیہ السلام سے بات کی تو اسی کلام کے ساتھ کی جو اس کی ازلی صفت تھی۔ اللہ تعالیٰ کی تمام صفات مخلوق کی صفات کے برخلاف ہیں۔ وہ عالم ہے مگر ہمارے جیسے علم کے ساتھ نہیں، وہ قادر ہے مگر ہماری جیسی قدرت کے ساتھ نہیں، وہ دیکھتا ہے مگر ہمارے دیکھنے کی طرح نہیں، وہ بولتا ہے مگر ہماری طرح کا بولنا نہیں اور وہ سنتا ہے مگر ہمارا جیسا سننا نہیں۔ ہم آلات وحروف سے بات کرتے ہیں، وہ کسی آلے اور حرف کے بغیر کلام کرتا ہے۔[2] حروف مخلوق ہیں اور اللہ کا کلام غیر مخلوق ہے۔ اللہ ایک شے ہے لیکن اشیا کی طرح نہیں ہے۔ شے کے معنی ہیں کہ وہ موجود ہے مگر جسم، جوہر اور عرض کے بغیر۔[3] اس کے لیے حدّ ہے نہ ضد، نہ ندہے نہ مثل۔ اس کے لیے ہاتھ، منہ اور نفس ثابت ہے، جس طرح اس نے قرآن مجید میں ذکر کیا ہے۔ یہ صفات بلا کیف ہیں۔ کوئی شخص یہ نہ کہے کہ ہاتھ سے مراد قدرت یا نعمت ہے، کیونکہ اس تاویل میں [1] یہ قول ظاہر حدیث کے خلاف ہے۔ سلف نے اس میں بحث نہیں کی ہے کہ لفظ، تلاوت اور کتابت مخلوق ہے یا غیر مخلوق۔ اس لیے اس میں خوض وبحث کرنا بہتر نہیں بلکہ ہمیں سکوت ہی کفایت کرتا ہے۔ [مولف رحمہ اللہ ] [2] یہ درست ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام کسی آلے کے بغیر ہے، مگر اس سے حرف اور خلقِ حرف کی نفی کرنا درست نہیں، کیوں کہ حرف وصوت کا ثبوت خود حدیث میں موجود ہے۔ حروفِ ہجا قدیم ہیں، حادث نہیں۔ [مولف رحمہ اللہ ] اللہ تعالیٰ کے لیے حرف کا اثبات درست ہے، جیسا کہ حدیث نبوی میں اس کی صراحت موجود ہے۔ دیکھیں: صحیح مسلم (۸۰۶) سنن الترمذي (۲۹۱۰) نیز دیکھیں: فتاویٰ ابن تیمیۃ (۱۲/۳۰۴) [3] یہ مضمون صحیح ہے، مگر سلف سے ان الفاظ کا استعمال ثابت نہیں۔ [مولف رحمہ اللہ ]