کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 269
قدرت اور حیات وغیرہ، فرقہ باطنیہ نے اس کا نام ’’حشویہ‘‘ رکھا ہے کیوں کہ یہ اخبار اور آثار کا قائل ہے، حالانکہ اس فرقہ ناجیہ کا نام صرف اصحابِ حدیث اور اہلِ سنت ہے۔ اسی طرح خوارج وغیرہ کے متعدد القاب اور اسما ہیں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں دین سے نکل جانے والے فرمایا ہے۔ یہ لوگ اکثر جزیرہ، عمان، موصل، حضر موت اور نواحی عرب میں آباد ہیں۔ شیخ رحمہ اللہ نے ہر فرقے کے عقائد، القاب اور اسما ذکر کیے ہیں۔ اس موضوع پر ہمارا رسالہ ’’کشف الغمۃ في افتراق الأمۃ‘‘ کافی ہے۔ مرجیہ فرقوں میں سے ایک فرقہ حنفیہ ہے: شیخ رحمہ اللہ نے من جملہ مرجیہ فرقوں کے حنفیہ کا نام لیا ہے اور کہا ہے کہ ان کا نام مرجیہ اس لیے ہے کہ ان کا عقیدہ یہ ہے: ’’إن الواحد من المکلفین إذا قال لا إلہ إلا اللّٰہ محمد رسول اللّٰه وفعل بعد ذلک سائر المعاصي لم یدخل النار أصلا، وإن الإیمان قول بلا عمل، والأعمال الشرائع والإیمان قول مجرد، والناس لا یتفاضلون في الإیمان، وإن إیمانہم وإیمان الملائکۃ والأنبیاء واحد، لا یزید ولا ینقص، ولا یستثنیٰ فیہ، فمن أقر بلسانہ و لم یعمل فھو مؤمن‘‘[1] [جب مکلفین میں سے کوئی شخص ’’لا إلہ إلا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ صلي اللّٰه عليه وسلم ‘‘ پڑھ لے اور اس کے بعد ہمہ قسم کی معاصی کا مرتکب ہی کیوں نہ ہو وہ بالکل آگ میں نہیں جائے گا۔ یقینا ایمان بلا عمل قول کا نام ہے اور اعمال شرائع ہیں، اور ایمان صرف قول ہے۔ لوگ ایمان میں ایک دوسرے سے متفاضل نہیں ہوتے، بے شک ان کا ایمان، فرشتوں اور انبیا کا ایمان ایک ہے، اس میں کمی بیشی نہیں ہوتی ہے اور نہ اس میں کوئی استثنا درست ہے، پس جس نے اپنی زبان سے اقرار کر لیا اور عمل نہ کیا تو وہ مومن ہے] پھر شیخ جیلانی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے: ’’وأما الحنفیۃ فہم بعض أصحاب أبي حنیفۃ النعمان بن ثابت زعموا أن الإیمان ھو المعرفۃ والإقرارباللّٰہ ورسولہ وبما جاء من عندہ جملۃ علی [1] الغنیۃ للجیلي (۱/ ۱۲۷)