کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 265
سوائے ایک فرقے کے اور وہ فرقہ اسلام کی جماعت ہے، پھر بنی اسرائیل عیسی علیہ السلام کے بعد بہتر (۷۲) جماعتوں میں بٹ گئے، تمام جماعتیں گمراہ ہیں سوائے ایک جماعت کے اور وہ جماعت اسلام والی جماعت ہے، پھر اس کے بعد تم تہتر (۷۳) گروہوں میں تقسیم ہو جاؤ گے، سب گروہ گمراہ ہوں گے سوائے ایک گروہ کے اور وہ گروہ وہ ہے جو اسلام کے ساتھ وابستہ ہے] نیز عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی دوسری حدیث یہ ہے: (( تَفْتَرِقُ أُمَّتِيْ عَلٰی بِضْعٍ وَّسَبْعِیْنَ فِرْقَۃً أَعْظَمُہَا فِتْنَۃً عَلٰی أُمَّتِيْ قَوْمٌ یَقِیْسُوْنَ الْأُمُوْرَ بِرَأْیِہِمْ یُحَرِّمُوْنَ الْحَلَالَ وَ یُحَلِّلُوْنَ الْحَرَامَ )) [1] [میری امت ستر (۷۰) سے کچھ اوپر جماعتوں میںبٹ جائے گی، میری امت میں سب سے زیادہ فتنہ پرور اس جماعت کے لوگ ہوں گے جو اپنے معاملات کو اپنی رائے کے مطابق حل کریں گے، چنانچہ وہ حلال کو حرام اور حرام کو حلال ٹھہرائیں گے] تیسری حدیث سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہا سے مرفوعاً مروی ہے: (( إِنَّ بَنِيْ إِسْرَائِیْلَ افْتَرَقُوْا عَلٰی إِحْدٰی وَ سَبْعِیْنَ مِلَّۃً وَّ تَفْتَرِقُ أُمَّتِيْ عَلٰی ثَلَاثٍ وَّ سَبْعِیْنَ مِلَّۃً کُلُّہَا فِيْ النَّارِ إِلَّا مِلَّۃً وَّاحِدَۃً فَقِیْلَ لَہٗ: مَا الْوَاحِدَۃُ؟ قَالَ: مَا أَنَا عَلَیْہِ الْیَوْمَ وَ أَصْحَابِيْ )) [2] [یقینا بنی اسرائیل اکہتر (۷۱) فرقوں میں تقسیم ہو گئے، جبکہ میری امت تہتر (۷۳) گروہوں میں بٹ جائے گی، ایک گروہ کے علاوہ تمام کے تمام آگ میں جائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا: وہ گروہ کون سا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو گروہ اس طریقے پر ہو گا جس پر آج میں اور میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم گامزن ہیں] ان احادیث سے سابقہ امتوں اور اس امت کا افتراق ثابت ہوتا ہے۔ شیخ رحمہ اللہ نے ان احادیث کی تخریج ذکر نہیں فرمائی، لیکن ان احادیث کی اصل کتب سنن میں موجود ہے، الفاظ اگرچہ مختلف ہیں لیکن سب کے معانی ملتے جلتے ہیں۔ میں کہتا ہوں: امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہا سے مرفوعاً یوں روایت کیا ہے: [1] المستدرک للحاکم (۴/۴۷۷) المعجم الکبیر (۱۸/۵۰) [2] المستدرک للحاکم (۱/۲۱۸)