کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 239
نہیں ہوتے تھے۔ وہ اللہ تعالی کو اپنے اعمال کی خبر نہیں دیتے تھے اور وہ ایسے لوگ ہیں کہ تو انھیں جہاں بھی ملے گا، ان کو فکر مند، خوف زدہ، ڈرنے والے اور خشیتِ الٰہی سے لبریز پائے گا۔[1] سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں رسول اللہ نے فرمایا ہے: (( اَلْحَیَائُ وَالْعِيُّ شُعْبَتَانِ مِنَ الْإِیْمَانِ، وَالْبَذَائُ وَالْبَیَانُ شُعْبَتَانِ مِنَ النِّفَاقِ )) [2] (رواہ أحمد والترمذي و حسنہ و خرجہ الحاکم و صححہ) [حیا اور کم گوئی ایمان کی دو شاخیں ہیں، جب کہ فحش گوئی اور زیادہ باتیں کرنا نفاق کی دو علامتیں ہیں] نیز سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے مرفوع حدیث ہے: (( اَلْبَیَانُ مِنَ اللّٰہِ وَالْعِيُّ مِنَ الشَّیْطَانِ وَلَیْسَ الْبَیَانُ کَثْرَۃَ الْکَلَامِ، وَلٰکِنَّ الْبَیَانَ الْفَصْلُ فِيْ الْحَقِّ، وَلَیْسَ الْعِيُّ قِلَّۃَ الْکَلَامِ وَلٰکِنَّ مَنْ سَفَّہَ الْحَقَّ )) [3] (رواہ ابن حبان) [بیان اللہ کی طرف سے اور بیان سے عاجزی شیطان کی طرف سے ہے، لیکن بیان کثرتِ کلام کو نہیں کہتے، بلکہ بیان تو امرِ حقِ میں فیصلہ کن بات کرنے کا نام ہے۔ ’’عِيّ‘‘ قلتِ کلام کو نہیں کہتے ہیں، بلکہ ’’عِیَّ‘‘ تو بیانِ حق سے عاجز آنے کا نام ہے] مراسیلِ محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ تین چیزیں ایسی ہیں جن سے بندہ اس دنیا میں تو کم ہو جاتا ہے، مگر ان کے سبب آخرت میں زیادہ عزت پاتا ہے۔ وہ تین چیزیں یہ ہیں: 1۔ رحم، 2۔حیا، 3۔کم گوئی۔ عون بن عبداللہ رحمہ اللہ نے کہا ہے: ’’حیا، عفاف اور زبان کا عاجز آ جانا اور دل اور عمل کا عاجز نہ آنا ایمان کا حصہ ہے۔‘‘ یہ وہ چیزیں ہیں جو دنیا میں ناقص ہوتی ہیں، مگر آخرت میں زیادہ ہو جاتی ہیں۔ بہر حال اس نقصانِ دنیا سے آخرت کا اضافہ بڑھ کر ہے۔ یہ روایت ایک ضعیف سند کے ساتھ مرفوعاً بھی مروی ہے۔[4] [1] حلیۃ الأولیاء (۱/۳۲۵) الزھد لابن المبارک (۱۴۹۵) تاریخ دمشق (۱۰/۷۹) [2] مسند أحمد (۵/۲۶۹) سنن الترمذي، رقم الحدیث (۲۰۲۷) مستدرک الحاکم (۱/۵۱) [3] صحیح ابن حبان (۱۳/۱۱۳) اس کی سند میں ’’عتبہ بن سکن‘‘ راوی سخت ضعیف ہے۔ [4] سنن الدارمي (۵۰۹) اس کی سند میں ’’عبدالحمید بن سوار‘‘ ضعیف ہے۔