کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 231
پھر جب بندہ اس انس اور حلاوت کو پالیتا ہے تو وہ عارفِ رب ٹھہرتا ہے۔ اس کے اور رب تعالیٰ کے درمیان ایک خاص شناخت ہو جاتی ہے اور وہ جب بھی کوئی چیز اللہ سے مانگے تو وہ چیز اسے مل جائے اور جب وہ کوئی چاہت کرے تو اس کی مطلوبہ چیز اسے عطا ہو جائے۔ جس طرح کہ شغوانہ نے فضیل سے کہا تھا: ’’أما بینک وبین ربک إذا دعوتہ أجابک؟‘‘ [کیا تیرے اور تیرے رب تعالی کے درمیان ایسی معرفت نہیں ہے کہ جب تو اس سے دعا کرے تو وہ تیری دعا کو قبول کرے؟] یہ سن کر فضیل پر غشی طاری ہو گئی تھی۔ بندۂ دنیا، عالمِ برزخ اور موقفِ قیامت میں ہمیشہ شدائد و کرب میں مبتلا ہوتا ہے، پھر جب اس کے اور رب تعالی کے درمیان ایک خاص شناسائی ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان سب امور میں اس سے کفایت کرتا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو وصیت کرتے وقت رسول اللہ نے اسی کی طرف اشارہ فرمایا تھا: (( تَعَرَّفْ إِلَیْہِ فِيْ الرَّخَائِ یَعْرِفْکَ فِيْ الشِّدَّۃِ )) [1] (مسند أحمد) [تم اسے خوش حالی میں یاد رکھو، وہ تمھیں تکلیف کے وقت یاد رکھے گا] کسی نے معروف کرخی رحمہ اللہ سے کہا تھا: ’’ما الذي ھیجک إلی الانقطاع وذکر الموت والقبر والجنۃ والنار؟‘‘ [تجھے علاحدگی (رہبانیت) اختیار کرنے، موت، قبر، جنت اور جہنم کی یاد میں مگن رہنے پر کس چیز نے برانگیخت کیا ہے؟] اس نے جواب دیا: یہ سب کچھ اسی (اللہ) کے ہاتھ میں ہے۔ جب تیرے اور اس کے درمیان جان پہچان ہو گئی تو پھر وہ تجھے ان سب سے کفایت کرے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ علم نافع وہ ہے جو بندے اور رب تعالیٰ کے درمیان شناسائی کرا دے اور بندے کو اس کی طرف راہ یاب کر دے، حتی کہ وہ صرف اکیلے رب ہی کو پہچان کر اس کے ساتھ مانوس ہو جائے اور اسی کے قرب سے شرمندہ رہے، گویا وہ اسے دیکھ رہا ہے۔ [1] مسند أحمد (۱/۳۰۷)