کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 222
مسعود اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم ہیں، یہ کس طرح کے لوگ تھے؟ ان کا کلام ابن عباس رضی اللہ عنہما کے کلام سے کمتر تھا، حالانکہ یہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے زیادہ علم والے تھے، اسی طرح تابعین کا کلام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے کلام سے زیادہ ہے، حالانکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان سے بڑے عالم تھے، اسی طرح تبع تابعین کا کلام تابعین کے کلام کی نسبت زیادہ تھا، حالانکہ تابعین علم میں ان سے زیادہ تھے۔ غرض کہ علم کثرتِ روایت کا نام ہے نہ کثرت مقال کا، وہ تو ایک نور ہے جو دل کے اندر ڈال دیا جاتا ہے اور بندہ اس کی چمک دمک کے سبب حق و باطل کے درمیان تمییز کر لیتا ہے، پھر وہ اس کی مدد سے مختصر اور با مقصد عبارتوں کے ساتھ اپنے مقاصد کی تعبیر کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جامع کلمات دیے گئے تھے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مختصر کلام عطا ہوا تھا، اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم طول کلام کے ساتھ قیل و قال میں نہیں پڑے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: (( إِنَّ اللّٰہَ لَمْ یَبْعَثْ نَبِیًّا إِلَّا مُبَلِّغاً، وَإِنَّ تَشْقِیْقَ الْکَلَامِ مِنَ الشَّیْطَانِ )) [1] [اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو صرف مبلغ بنا کر مبعوث کیا اور یقینا تفصیلِ کلام شیطان کی طرف سے ہے] اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر اتنی ہی بات کرتا ہے جس سے تبلیغ کا مقصود حاصل ہو جائے۔ باقی رہا کثرتِ اقوال اور تفصیلِ کلام تو وہ ایک مذموم حرکت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ متوسط ہوا کرتا تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بات کرتے تو اگر کوئی شمار کرنے والا ان کلمات کو شمار کرنا چاہتا تو وہ انھیں گن لیتا۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: بعض بیان سحر اور جادو ہوتا ہے۔[2] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بطور مذمت کے ہے نہ کہ بطور مدح کے، جیسے بعض لوگوں نے یہ گمان کر لیا ہے۔ جو شخص الفاظِ حدیث کے سیاق پر تامل کرے گا، وہ اس مطلب و مفہوم پر یقین کرے گا۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے: [1] مصنف عبد الرزاق (۱۱/۱۶۳) مسند أحمد (۲/۹۴) [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۴۸۵۱) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۸۶۹)