کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 220
اسی طرح امام موصوف کثرتِ مسائل میں جواب دینے کو مکروہ جانتے تھے اور کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَ یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الرُّوْحِ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ﴾[بني إسرائیل: ۸۵] دیکھو! اس جگہ اللہ تعالیٰ نے ان کے سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔ کسی نے امام مالک رحمہ اللہ سے کہا کہ ایک آدمی سنن کا عالم ہوتا ہے اور سنتوں کی طرف سے بحث وجدل کرتا ہے؟ امام صاحب فرمانے لگے: وہ جدل کیوں کرتا ہے؟ وہ صرف سنت طریقہ بتا دے۔ سائل یا سامع اگر قبول کر لے تو بہتر ہے، ورنہ خاموش رہے۔ نیز امام مالک رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ علم میں جدال کرنا دل کے نور کو سلب کر لیتا ہے اور علم میں جھگڑا کرنا دل کو سخت کر دیتا اور باہم دشمنی پیدا کرتا ہے۔ چنانچہ امام مالک رحمہ اللہ کی عادت تھی کہ وہ اکثر مسائل کے جواب میں، جو مسائل ان سے دریافت کیے جاتے تھے، کہہ دیتے کہ میں نہیں جانتا ہوں۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اس معاملے میں انھیں کے نقشِ قدم پر چلتے تھے، کیونکہ حدیث میں کثرتِ مسائل، اغلو طاتِ مسائل اور وقوعِ حوادث سے پہلے مسائل کے دریافت کرنے سے ممانعت وارد ہوئی ہے۔[1] ائمہ وسلف کا کثرتِ جدال سے سکوت: سلف صالحین اور ائمہ کرام امام مالک، احمد، شافعی اور اسحاق بن راہویہ رحمہم اللہ کے کلام میں فقہ کے مآخذ اور مدارکِ احکام پر ایسے مختصر کلام کے ساتھ تنبیہ ہے جس سے بات کو طول دیے بغیر مقصود کا فہم حاصل ہو جاتا ہے۔ نیز ان کے کلام میں لطیف اور احسن اشارے کے ساتھ مخالف سنت اقوال کا رد ہے۔ جو شخص ان ائمہ و مجتہدین سے دین کا فہم حاصل کرتا ہے، وہ ان کے بعد اس باب میں متکلمین کی لمبی چوڑی کلام سے بے نیاز ہو جاتا ہے، بلکہ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ اُن متکلمین کا طویل کلام اتنا درستی اور صواب پر مشتمل نہیں ہوتا، جو صواب اِن کے اس مختصر کلام میں موجود ہوتا ہے۔ [1] مسند أحمد (۵/۴۳۵) سنن أبي داؤد (۳۶۵۶) اس کی سند میں ’’عبداللّٰه بن سعد‘‘ مجہول ہے۔