کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 219
امام ابنِ رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’وکل ذلک محدث لا أصل لہ‘‘ [یہ سب بدعت ہے، جس کی کوئی اصل نہیں ہے] تیری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی: بحث و تمحیص کا یہی فن ان فقہا کا علم ٹھہرا اور اس نے انھیں علم نافع کے حصول سے روک دیا، اسی لیے سلف نے اس فن پر انکار کیا ہے۔ مرفوع حدیث میں آیا ہے: (( مَا ضَلَّ قَوْمٌ بَعْدَ ہُدًی کَانُوا عَلَیْہِ إِلَّا أُوتُوا الْجَدَلَ، ثُمَّ قَرَأَ: ﴿مَا ضَرَبُوہُ لَکَ إِلَّا جَدَلًا بَلْ ھُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ﴾)) (رواہ أہل السنن) [1] [ہدایت پر گامزن ہونے کے بعد جو قوم بھی دوبارہ گمراہ ہوتی ہے وہ لڑائی جھگڑوں میں پڑ جاتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: ﴿مَا ضَرَبُوہُ لَکَ إِلَّا جَدَلًا بَلْ ھُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ﴾ ’’یہ لوگ آپ کے سامنے جھگڑے کے علاوہ کچھ نہیں رکھتے بلکہ یہ توجھگڑالو لوگ ہیں‘‘] بعض علماے سلف کا کہنا ہے کہ جب اللہ تعالی کسی بندے کے ساتھ خیرو بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے عمل کا دروازہ کھول دیتا ہے اور بحث و جدل کا دروازہ بند کر دیتا ہے اور جب کسی بندے کے ساتھ شرکا ارادہ کرتا ہے تو بابِ عمل کو بند کر کے اس کے لیے بابِ جدل کھول دیتا ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا ہے: ’’أدرکت أھل ھذہ البلدۃ، و إنھم لیکرھون ھذا الإکثار الذي فیہ الناس الیوم‘‘ [میں نے اس شہر (مدینہ) کے لوگوں کو اس حال میں پایا کہ وہ (مسائل میں) اس افراط و اطناب کو ناپسند کرتے تھے، جس میں دور حاضر کے لوگ مبتلا ہیں] اس سے مراد اختلافی مسائل ہیں۔ امام موصوف کثرتِ کلام اور فتوی بازی کو ایک عیب جانتے تھے اور فرماتے تھے: ’’یتکلم أحدہم کأنہ جمل مغتلم، یقول: ھو کذا ھو کذا، یھذر في کلامہ‘‘ [ان میں کوئی یوں کلام کرتا ہے جیسے وہ بڑھی ہوئی شہوت والا اونٹ ہو۔ وہ کہتا ہے: یہ ایسے ہے اور وہ ایسے ہے۔ وہ اپنی گفتگو میں اوٹ پٹانگ بولتا ہے] [1] سنن الترمذي، رقم الحدیث (۳۲۵۳) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۴۸)