کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 214
قاسم بن مخیمرہ رحمہ اللہ علم نحو کو مکروہ جانتے تھے اور کہتے تھے: ’’أولہ شغل وآخرہ بغي‘‘[1] [اس کی ابتدا مشغولیت اور انتہا بغاوت و تکبر ہے] اس سے ان (ابن مخیمرہ رحمہ اللہ)کی مراد اس علم میں بہت زیادہ وسعت پیدا کرنا ہے۔ امام احمد رحمہ اللہ علمِ لغت میں وسعت پیدا کرنے اور عربیت کی معرفت کو مکروہ جانتے تھے، چنانچہ انھوں نے ابو عبید پر اسی بابت انکار کرتے ہوئے کہا تھا: ’’ھو یشغل عما ھو أہم منہ‘‘ [اس علم میں وسعت پیدا کرنا اس علم سے غافل کر دیتا ہے جو علم اس سے زیادہ اہم ہے] اسی لیے یہ بات کہی جاتی ہے: ’’العربیۃ في الکلام کالملح في الطعام‘‘ [کلام میں عربیت (علم نحو وغیرہ) کی وہی حیثیت ہے جو کھانے میں نمک کی ہے] یعنی انسان اسی قدر علم نحو پڑھے جس سے وہ صحیح اور درست کلام کر سکے۔ جس طرح کہ کھانے کی درستی کے لیے اس میں تھوڑا سا نمک شامل کیا جاتا ہے اور جب نمک زیادہ ہو جاتا ہے تو کھانا بگڑ جاتا ہے۔ اسی طرح علمِ حساب ہے۔ انسان کو چاہیے کہ بقدرِ حاجت اس علم کو حاصل کرے جس سے مستحقین کے درمیان فرائض کی تقسیم اور وصیتوں وغیرہ امور کی تقسیم ہو سکے۔ جو علم اس مقدار سے زیادہ ہو، وہ علمِ غیر نافع ہے، اس سے سوائے دماغوں کی ریاضت کے کچھ حاصل نہیں ہوتا، لہٰذا اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے، کیوں کہ یہ اہم علم کے حصول سے باز رکھتا ہے۔ میں [نواب صاحب رحمہ اللہ ]کہتا ہوں کہ ضروری علوم کی مقدار کا مفصل بیان کتاب ’’احیاء العلوم‘‘ سے معلوم کرنا چاہیے، پھر ’’احیاء الاحیائ‘‘ سے اور پھر ’’لسان العرفان‘‘ سے۔ صحابہ کرام کے بعد ایجاد ہونے والے غیر نافع علوم: رہے وہ علوم جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بعد معرض وجود میں آئے ہیں اور ان میں ماہرین علوم نے وسعت پیدا کی ہے، انھوں نے ان کا نام علوم رکھا ہے اور وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ جو شخص ان علوم کا علم نہیں رکھتا ہے وہ جاہل یا گمراہ ہے، تو حقیقت بات یہ ہے کہ وہ سب علوم بدعت، گمراہی، من [1] اقتضاء العلم العمل للخطیب البغدادي (۱۴۹)