کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 209
[اللہ تعالیٰ سے نفع مند علم کا سوال کرو اور غیر مفید علم سے پناہ پکڑو] 4۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوںکہتے تھے: (( اَللّٰھُمَّ انْفَعْنِيْ بِمَا عَلَّمْتَنِيْ، وَ عَلِّمْنِيْ مَا یَنْفَعُنِيْ وَزِدْنِيْ عِلْماً، وَارْزُقْنِيْ عِلْماً تَنْفَعْنِيْ بِہٖ )) [1] (رواہ الترمذي) [اے اللہ! میرے لیے وہ علم مفید بنا جو تو نے مجھے سکھایا ہے، مجھے وہ علم عطا کر جو مجھے فائدہ دے، مجھے علم میں زیادہ کر اور مجھے ایسا علم عنایت فرما جس کے ذریعے تو مجھے فائدہ پہنچائے] 5۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوں دعا فرماتے تھے: (( اَللّٰھُمَّ إِنَّا نَسْأَلُکَ إِیْمَاناً دَائِماً، فَرُبَّ إِیْمِانٍ غَیْرُ دَائِمٍ، وَأَسْأَلُکَ عِلْماً نَافِعاً، فَرُبَّ عِلْمٍ غَیْرُ نَافِعٍ )) (خرجہ أبو نعیم) [اے اللہ! ہم تجھ سے دائمی ایمان کا سوال کرتے ہیں، کیونکہ بعض ایمان غیر دائمی بھی ہوتے ہیں اور میں تجھ سے نفع بخش علم کا سوال کرتا ہوں، اس لیے کہ بعض علم غیر نفع بخش بھی ہوتے ہیں] 6۔ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً حدیث میں مروی ہے: (( إِنَّ مِنَ الْبَیَانِ سِحْراً وَإِنَّ مِنَ الْعِلْمِ جَھْلاً )) [2] (خرجہ أبوداؤد) [بے شک بعض بیانات میں جادو ہوتا ہے اور بعض علوم بھی جہالت ہوتے ہیں] صعصعہ بن صوحان رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ وہ علم جہالت ہے: ’’أن یتکلف العالم إلی علمہ ما لا یعلم فیجھلہ ذلک‘‘ [عالم اپنے علم میں ایسا تکلف کرے جسے وہ جانتا نہ ہو تو وہ اس میں جاہل شمار ہو گا] اس حدیث کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ جو علم ضرر پہنچائے نہ نفع، وہ جہل ہے، اس کا نہ جاننا اس کے جاننے سے بہتر ہے۔ جب اس علم سے جہل بہتر ٹھہرا تو وہ علم جہل سے بھی بد تر ہوا جیسے علم سحر وغیرہ علوم جو دین یا دنیا میں مضر ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بعض غیر نافع علوم کی تفسیر مروی ہے۔ [1] سنن الترمذي (۳۵۹۹) مگر اس حدیث کے آخری الفاظ (( وارزقني علما تنفعني بہ )) ترمذی میں نہیں ہیں، بلکہ یہ الفاظ المستدرک للحاکم (۱/۶۹۰) اور سنن النسائي الکبری (۴/۴۴۴) میں مروی ہیں۔ [2] سنن أبي داؤد، رقم الحدیث (۵۰۱۲)