کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 205
مقدمہ علمِ خلف پر علمِ سلف کی فضیلت کا بیان [1] نفع و نقصان کے اعتبار سے علم کی اقسام: اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کسی جگہ مقام مدح میں علم کا ذکر کیا ہے تو کسی جگہ مقام ذم میں، چنانچہ ان میں سے پہلا علم نافع اور دوسرا غیر نافع ہے۔ نفع مند علم: مقام مدح میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُلْ ھَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَالَّذِیْنَ لاَ یَعْلَمُوْنَ﴾[الزمر: ۹] [کہہ دے کیا برابر ہیں وہ لوگ جو جانتے ہیں اور وہ جو نہیں جانتے؟] ایک مقام پر فرمایا: ﴿ شَھِدَ اللّٰہُ اَنَّہٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ وَ الْمَلٰٓئِکَۃُ وَ اُولُواالْعِلْمِ﴾[آل عمران: ۱۸] [اللہ نے گواہی دی کہ بے شک حقیقت یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتوں نے اور علم والوں نے بھی] ایک جگہ فرمایا: ﴿ قُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا﴾[طٰہٰ: ۱۱۴] [کہہ اے میرے رب! مجھے علم میں زیادہ کر] دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا: ﴿ اِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰٓؤُا﴾[الفاطر: ۲۸] [اللہ سے تو اس کے بندوں میں سے صرف جاننے والے ہی ڈرتے ہیں] [1] یہ مکمل مبحث علامہ ابن رجب رحمہ اللہ کے رسالے ’’فضل علم السلف علیٰ علم الخلف‘‘ سے ماخوذ ہے، جیسا کہ مولف رحمہ اللہ نے اس کے آخر میں یہ صراحت کی ہے۔