کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 191
’’یہ قول و عمل اور اعتقاد جنت کی بشارت کے مستحق لوگوں کا مذہب ہے۔‘‘[1] عقائد سیکھنے کی عمر: امام غزالی رحمہ اللہ نے کہا ہے: ’’لڑکوں کی نشوونما کے شروع میں انھیں عقائد کی تعلیم دینا چاہیے، تاکہ وہ انھیں خوب اچھی طرح یاد کر لیں، پھر جیسے جیسے وہ بڑے ہوتے جائیں، ان پر عقائد کے تھوڑے تھوڑے معانی واضح ہوتے جائیں، کیونکہ اس علم کی ابتدا یاد کرنا ہے، پھر سمجھنا اور پھر اس کے مطابق عقیدہ بنانا، یقین کرنا اور تصدیق کرنا ہے۔ لڑکوں میں یہ کام دلیل کے بغیر ہو جاتا ہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے نشوونما کی ابتدا میں آدمی کے دل کو حجت و برہان کی ضرورت و حاجت کے بغیر کھول دیا ہے۔‘‘[2] انتھیٰ خاتمہ تالیف: میں نے اس رسالے کو نظرثانی کر کے اس لیے صحیح کیا ہے، تا کہ میرا پوتا ابوالفتح میر ابو الحسن خان ۔جعلہ اللّٰہ من أہل العلم والإیمان۔ جب مکتب میں بیٹھے اور اردو سمجھنے لگے تو سب سے پہلے ان شاء اللہ اس رسالے کو پڑھے اور اپنی ماں، خالہ اور پھوپھی بلکہ سارے ملازمین اور نوکروں چاکروں کو پڑھ کر سنائے۔ وباللّٰہ التوفیق، والحمد للّٰہ أولا و آخرا و ظاہرا و باطنا۔ ٭٭٭ [1] حادي الأرواح (ص: ۲۹۲) [2] إحیاء علوم الدین (۱/۹۴)