کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 187
حکم دیا ہے۔ وہ شرک سے راضی نہیں، اگرچہ شرک اس کے ارادے سے ہوتا ہے۔ 59۔اہلِ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی احادیث کی تصدیق کرتے ہیں، جیسے یہ حدیث کہ اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر نزول فرما کر کہتا ہے: کوئی استغفار کرنے والا ہے؟۔۔۔الخ۔ [1] 60۔وہ کتاب و سنت سے تمسک کرتے ہیں، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْئٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوْلِ﴾[النساء: ۵۹] [پھر اگر تم کسی چیز میں جھگڑ پڑو تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ] 61۔وہ ائمہ دین اور سلف صالحین کے اتباع کے معتقد ہیں، نیز وہ اس بات کے بھی معتقد ہیں کہ وہ اپنے دین میں اس چیز کا اتباع نہ کریں گے جس کا اللہ تعالیٰ نے اذن نہیں دیا۔ 62۔وہ اس بات کا بھی اقرار کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جلوہ گر ہو گا، جس طرح اس نے فرمایا ہے: ﴿وَجَآئَ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا﴾[الفجر: ۲۲] [اور تیرا رب آئے گا اور فرشتے جو صف در صف ہوں گے] 63۔اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے، جس طرح چاہتا ہے، قریب ہوتا ہے: ﴿وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ﴾[قٓ: ۱۶] [اور ہم اس کی رگِ جاں سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں] 64۔وہ اس بات کے معتقد ہیں کہ عید، جمعہ اور جماعت ہر نیک و بد امام کے پیچھے ادا کرنا درست ہے۔ 65۔وہ سفر وحضر میں دونوں موزوں پر مسح کے ثبوت کے قائل ہیں۔ 66۔وہ مشرکوں کے خلاف فرضیتِ جہاد کو ثابت کرتے ہیں۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مبعوث کیا ہے، اس وقت سے لے کر آخر تک ایک جماعت دجال سے قتال کرے گی۔ 67۔اہلِ حدیث مسلمانوں کے لیے دعاے خیر کے معتقد ہیں، نیز اس بات کے معتقد ہیں کہ وہ ان کے خلاف تلوار لے کر خروج کریں اور نہ فتنے کے وقت لڑائی کریں۔ 68۔وہ دجال کے نکلنے اور عیسیٰ علیہ السلام کے اسے قتل کرنے کو بھی سچ مانتے ہیں۔ 69۔بدن عنصری کے ساتھ اور سوتے میں خواب کے اندر بھی معراج کا ہونا سچ جانتے ہیں۔ 70۔وہ یہ بھی سچ سمجھتے ہیں کہ مسلمان مردوں کے حق میں ان کی موت کے بعد ان پر دعا کا صدقہ کرنا [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۱۰۹۴) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۷۵۸)