کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 177
امام غزالی رحمہ اللہ ایک جگہ اربعین میں یوں رقم طراز ہیں: ’’اللہ تعالیٰ کسی چیز میں حلول نہیں کرتا اور نہ کوئی چیز اللہ تعالیٰ میں حلول کرتی ہے، وہ اس سے برتر ہے کہ کوئی جگہ اسے اپنے میں سما لے، جس طرح وہ اس بات سے پاک ہے کہ اسے زمانہ روک لے، بلکہ وہ مکان اور جہان کو پیدا کرنے سے پہلے بھی تھا اور اب بھی وہ اسی حال پر ہے جس پر وہ پہلے تھا۔ وہ اپنی صفات کے ساتھ مخلوق سے جدا ہے، اس کی ذات میں اس کے سوا کوئی نہیں ہے اور نہ اس کے غیر میں اس کی ذات ہے۔‘‘[1] انتھیٰ ایک بہت بڑی جماعت کا یہی موقف ہے۔ یہاں سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے علم و قدرت وغیرہ کے سوا ہر مکان میں یا ہر انسان کے ساتھ بذاتہ قرار دینا معتزلہ کا مذہب ہے۔ اہلِ سنت و جماعت کی، ائمہ اربعہ کے مقلدین ہوںیا اہل حدیث، عقائد پر لکھی ہوئی سبھی کتابیں اس عقیدے سے خالی ہیں، جس کا جی چاہے تلاش کر دیکھے۔ ہاں! جار اللہ زمخشری اور عبدالجبار معتزلی وغیرہ اس کے قائل ہیں اور متکلمین کی کتابوں میں ان کا رد بھی لکھا ہوا ہے۔ جمہور علما نے قرب، معیت اور احاطہ کی آیات کو علم، عون اور نصر وغیرہ جیسے ہر محل کے مناسب الفاظ پر محمول کیا ہے، تاکہ متشابہ کو محکم کے موافق کر دیں، مگر محققین محدثین کا طریقہ یہ ہے کہ وہ جس طرح صفتِ استوا کو ثابت کرتے ہیں، اسی طرح صفتِ قرب و معیت وغیرہ کو بھی بلا کیف مانتے ہیں اور علم وعون وغیرہ کے ساتھ ان کی تاویل نہیں کرتے ہیں، امام شوکانی رحمہ اللہ کا بھی مختار قول یہی ہے۔ یہ دونوں طریقے جائز ہیں، اگرچہ بعد والی بات احتیاط کے زیادہ قریب ہے۔ و اللّٰہ أعلم۔ مسئلہ استوا و فوق کی بحث ختم ہوئی۔ اب اہلِ حدیث کے باقی عقائد اختصار کے ساتھ بیان کیے جاتے ہیں۔ و باللّٰہ التوفیق۔ ٭٭٭ [1] الأربعین في أصول الدین للغزالي (ص: ۱۸)