کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 172
قرآن وحدیث میں ان کا اطلاق خدا تعالیٰ کے حق میں ہوا ہے اور یہ الفاظ معناً محکم ہیں۔ ان کا عربی، فارسی، اردو وغیرہ لغات میں حسبِ ترجمہ لغت حنفیہ، شافعیہ ، مالکیہ اور حنبلیہ کے نزدیک بالاتفاق درست ہے۔ ان کی کیفیت متشابہ ہے اور ان کی تاویل کرنا درست ہے، جس طرح کتبِ عقائد اور قرآن پاک کے تراجم سے ظاہر ہے۔ اس مسئلے کے دلائل میرے رسالے ’’انتقاد في شرح الاعتقاد‘‘ میں مذکور ہیں۔ سنن ترمذی میں لکھا ہے کہ جہمیہ نے ان روایات کا انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ تشبیہ ہے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی جگہ ید، سمع اور بصر کا ذکر کیا ہے، مگر جہمیہ نے ان آیات کی تاویل کی ہے اور اہلِ علم کی تفسیر کے خلاف ان کی تفسیر کی ہے اور یہ کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور اس جگہ ہاتھ بہ معنی قوت کے ہے۔ اسحاق بن ابراہیم رحمہ اللہ نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ تشبیہ تب ہوتی ہے جب یہ کہا جائے کہ ہاتھ مانند ہاتھ کے اور سننا مانند سننے کے ہے۔ جب یہ کہا کہ ہاتھ، سننا اور دیکھنا اور کیف نہ کہا اور نہ کہا سننا مانند سننے کے تو یہ تشبیہ نہ ہوئی۔[1] انتھیٰ ملخصاً۔ ٭٭٭ [1] سنن الترمذي (۳/۵۰)