کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 171
کے وہم کی بنا پر کفر جانتے ہیں جو قرآن و حدیث میں آئی ہے اور وہ اس میں اللہ سے نہیں ڈرتے کیونکہ جو شخص قرآن و حدیث کے ظاہر پر ایمان لایا ہے، اس نے اپنی طرف سے کچھ ایجاد نہیں کیا ہے، اب اگر اسے قیامت کے دن پکڑا جائے گا تو یہ سوائے ظلم کے اور کیا ہے؟ جبکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿ وَ اَنَّ اللّٰہَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ﴾[آل عمران: ۱۸۲] [اور اس لیے کہ بے شک اللہ بندوں پر کچھ بھی ظلم کرنے والا نہیں] اس ظلم سے انکار کرتا ہے۔ اپنی فاسد عقلوں سے عقائد مقرر کرنا اور اس کے سوا کو کفر جاننا، اگرچہ ظاہر قرآن و حدیث میں اسی طرح آیا ہو، حقیقت میں قرآن و حدیث میں غلطی نکالنے کے مترادف ہے۔ حق تعالیٰ نے قرآن مجید کو بیان کے لیے بھیجا ہے، رسول اللہ صلي الله عليه وسلم ، جو لوگوں میں سے فصیح تر ہیں، کس طرح ظاہر میں ایسے لفظ بول سکتے ہیں جن کا اعتقاد رکھنا کفر ہے؟ یہ جرات اس جماعت سے ہوئی جن کا چھوٹا جوان اور جوان بوڑھا ہو گیا۔ عادت، جو ایک طبیعت ہوتی ہے، اس سے جاملی۔ حال کی تحقیق کیے بغیر اندھے بہرے کی طرح اسے قبول کرنے کے لیے دوڑے اور آخر کار اپنے ایمان کو برباد کر بیٹھے۔ خبردار! ایسوں کی تقلید نہ کرنا، اگرچہ لوگوں کی نظروں میں وہ بڑے عالم اور شیخ المشائخ ہی کیوں نہ ہوں۔ اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ عادل ہے۔ جو کوئی اس کے ظاہر قول کے مطابق ایمان لایا ہے، وہ اس سے ناخوش اور ناراض نہیں ہو گا، اس کا عدل ظلم کو نہیں چاہتا ہے۔‘‘[1] انتھیٰ۔ من جملہ ان الفاظ کے جن کو سلف صالحین نے بلا تمثیل، تشبیہ، تاویل، تعطیل اور تکییف کے ظاہر پر محمول کیا ہے وہ ید، یمین، کف، اصبع، شمال، قدم، رجل، وجہ، نفس، عین، نزول، اتیان، مجی، کلام، قول، ساق، حقو، جنب، فوق، استوا، ذات، شخص، مرئ، صورت، یدین، حثیات، اصابع، ساعد، ذراع، صدر، روح، رحم، استظلال، فوق، من فی السمائ، رفع، عروج، صعود، معیت، مرصاد، دنو، قرب، بردائ، وطائ، قبل، ضحک، عجب، فرح، تبشبش، نظر، غیرت، ملال، استحیا، استہزا، غیرت، خدیعت، مکر، فراغ، تردد، فضل، رحمت، محبت، رضا، سخط، غضب، عداوت، ولایت، اختیار، صبر، محاضرہ، مصافحہ، اطلاع، اشراف عنداللہ، تقلیب قلوب، سبق اور کلمہ کن فیکون ہیں۔ [1] رسالہ نجاتیہ (ص: ۲۵)