کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 164
میں پھنسائیں اور اعتقاد فاسد میں گرفتار کریں تو بے شک اس شخص نے اللہ تعالیٰ کی حکمت اور رحمت کے ساتھ بدگمانی کی۔ اس نے اس بات کا گمان کیا کہ اس نے اور اس کے اسلاف نے تو حق سے تعبیر کی ہے اور حق کو صاف صاف بیان کیا ہے مگر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بیان نہیں کیا ہے، ہدایت و حق ان کے کلام میں ہے، اللہ اور اس کے رسول کے کلام میں نہیں، بلکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ظاہر کلام سے تشبیہ و تمثیل حاصل ہوتی ہے اور اہل تہور وتحیر کے ظاہر کلام سے ہدایت اور حق حاصل ہوتا ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ بدگمانی کی بات ہے اور یہ سب اللہ تعالیٰ کے ساتھ جاہلیت کے گمان کی طرح بد گمانی کرنے والے ہیں۔‘‘[1] انتھیٰ ملخصاً۔ ٭٭٭ [1] زاد المعاد (۳/ ۱۹۶)