کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 162
ساتویں فصل ادلہ اربعہ شرعیہ سے مسئلہ استوا، فوق اور علو کا ثبوت ادلہ شرعیہ کی تحقیق: مخفی نہ رہے کہ احناف کے نزدیک ادلہ شرعیہ چار ہیں۔ ایک قرآن، دوسری حدیث، تیسری اجماع اور چوتھی قیاس، مگر محققین کے نزدیک شرعی دلائل دو ہی ہیں۔ ایک قرآن مجید اور دوسری سنت مطہرہ۔ مسئلہ استوا، فوق اور علو ان چاروں دلائل سے ثابت ہے، وہ اس طرح کہ قرآن مجید کے دلائل فصل اول اور فصل چہارم میں ذکر ہو چکے۔ حدیث کے دلائل فصل دوم اور فصل پنجم میں گزر چکے اور اجماع اہلِ علم بلکہ اتفاق جمیع بنی آدم کے دلائل فصل سوم اور فصل ششم میں لکھے گئے۔ اب رہا قیاس، جو چوتھی دلیل ہے، تو وہ بھی اس کا مقتضی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات فوق عالم ہو اور وراء الوراء، داخل عالم، عالم اعلیٰ کے تحت اور اسفل نہ ہو۔ غزالی نے کہا ہے: ’’لیس في ذاتہ سواہ، ولا في سواہ ذاتہ‘‘[1] [اس کی ذات میں اس کے سوا کوئی نہیں اور نہ کسی دوسرے میں اس کی ذات ہے] ظاہر ہے کہ عالم ما سوا اللہ کا نام ہے، تو جب عالم ما سوا اللہ ٹھہرا تو اس میں اللہ تعالیٰ کی ذات داخل نہیں ہو سکتی، بلکہ یہ تو حلولیہ، اتحادیہ، ہنود اور معتزلہ کا اعتقاد ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو بذاتہ ہر چیز اور ہر جگہ میں جانتے ہیں یا اس کے متعلق عین خلق ہونے کا اعتقاد رکھتے ہیں۔ کون سا قیاس معتبر ہے؟ جہاں تک اس قیاس کا تعلق ہے جو دلیل شرعی ہے تو وہ مجتہدین امت کا قیاس ہے نہ کہ ما وشما کا۔ مجتہدین میں سے بڑے نامور چار امام ہیں اور اکثر امت انھیں کی مقلد ہے۔ ان ائمہ اربعہ میں [1] إحیاء علوم الدین (۱/۹۰)