کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 154
چھٹی فصل اہلِ علم کے اقوال کا بیان جن سے اللہ کے لیے علو اور جہتِ فوق ثابت ہوتی ہے پہلا قول: شیخ محمد فاخر محدث رحمہ اللہ نے ’’رسالہ نجاتیہ‘‘ میں لکھا ہے: ’’بیہقی ازامام ابو حنیفہ روایت کردہ کہ حق تعالیٰ در آسمان ست نہ در زمین و امام خود در فقہ اکبر نوشتہ کہ اگر کسی گوید، نمی شناسم پروردگار من در آسمان ست یا در زمین پس بتحقیق کافر شد برائے آنکہ خدائے تعالیٰ میفرماید: ﴿ اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی﴾[طٰہٰ: ۵] و عرش وی فوق سبع سمٰوٰت ست۔‘‘[1] [امام بیہقی رحمہ اللہ نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے روایت کی ہے کہ حق تعالیٰ زمین میں نہیں بلکہ آسمان میں ہیں۔ امام موصوف نے خود بھی اپنی کتاب ’’فقہ اکبر‘‘ میں لکھا ہے کہ اگر کوئی کہے کہ مجھے یہ معرفت حاصل نہیں ہوئی کہ میرا پروردگار آسمان میں ہے یا زمین میں ہے تو یقینا وہ کافر ہو گیا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا ہے: ﴿ اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی﴾[طٰہٰ: ۵] [وہ بے حد رحم والا عرش پر بلند ہوا] اور اس کا عرش ساتوں آسمانوں کے اوپر ہے] انتھیٰ۔ شیخ فاخر کی نقل کردہ دوسری روایت فقہ اکبر کے بعض نسخوں میں نہیں ہے، جب کہ بعض نسخوں میں یہ موجود ہے،[2] جس طرح بعض میں ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم [کے والدین] ایمان پر فوت ہوئے اور [1] رسالہ نجاتیہ (ص: ۲۱) [2] شرح الفقہ الأکبر (ص: ۶۱)