کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 148
پانچویں فصل ان حدیثوں کا بیان جن سے اللہ تعالیٰ کے لیے جہتِ فوق اور علو ثابت ہوتا ہے پہلی حدیث: (( فَعَلَا بِہِ إِلَی الْجَبَّارِ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی، فَقَالَ وَہُوَ مَکَانَہُ )) (رواہ البخاري) [1] [پس وہ(جبریل) آپ کو اللہ تعالیٰ کے پاس لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرض کی اور وہ اپنی جگہ پر تھا] اس حدیث میں جگہ سے مراد عرش ہے، لہٰذا اس حدیث سے علو اور استوا دونوں ثابت ہوئے۔ دوسری حدیث: (( اِرْجِعْ إِلیٰ رَبِّکَ )) (رواہ البخاري) [2] [تم اپنے رب کی طرف لوٹو] اس حدیث میں لوٹنا عرش کی جانب جہتِ فوق میں تھا۔ تیسری حدیث: (( أَنَا أَمِیْنُ مَنْ فِيْ السَّمَائِ )) (متفق علیہ)[3] [میں آسمان والے کا امین ہوں] اس حدیث میں بہ طریقِ مجاز آسمان سے مراد عرش ہے۔ چوتھی حدیث: چوتھی حدیث لونڈی والی ہے: [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۷۰۷۹) [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۷۰۷۹) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۶۲) [3] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۴۰۹۴) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۶۴)