کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 132
[وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھے دنوں میں پیدا کیا، پھر وہ عرش پر بلند ہوا، وہ جانتا ہے جو چیز زمین میں داخل ہوتی ہے اور جو اس سے نکلتی ہے اور جو آسمان سے اترتی ہے اور جو اس میں چڑھتی ہے اور وہ تمھارے ساتھ ہے، جہاں بھی تم ہو اور اللہ اسے جو تم کرتے ہو، خوب دیکھنے والا ہے] مندرجہ بالا آیات محکم ہیں: مندرجہ بالا سات آیات سے اللہ تعالیٰ کا عرش پر استوا پوری صراحت کے ساتھ ثابت ہوتا ہے۔ شاہ عبدالقادر رحمہ اللہ نے دو جگہ پر ان آیات کا ترجمہ یوں کیا ہے: ’’پھر بیٹھا عرش پر‘‘ اور چار جگہ یوں کیا ہے: ’’پھر قائم ہوا تخت پر‘‘۔ مولوی رفیع الدین دہلوی رحمہ اللہ نے یوں ترجمہ کیا ہے: ’’پھر قرار پکڑا اوپر عرش کے۔‘‘ ان کے والد محترم شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ نے یوں ترجمہ کیا ہے: ’’باز مستقر شد بر عرش‘‘ [پھر قرار پکڑا عرش پر] صحیح بخاری میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی یہی ترجمہ منقول ہے۔ یہاں سے یہ معلوم ہوا کہ یہ آیات لفظاً محکم اور کیفیتاً متشابہ ہیں۔ لغتاً ان کا ترجمہ کرنا درست ہے۔ ان پر ایمان لانا واجب ہے اور ان کی کیفیت سے متعلق سوال کرنا بدعت ہے۔ ’’ما لا بد منہ‘‘ میں فرمایا ہے: ’’نصوص کا انکار کرنا کفر اور ان کی تاویل کرنا جہل مرکب ہے۔‘‘[1] انتھیٰ۔ اللہ تعالیٰ کی بندوں کے ساتھ علمی معیت کا ثبوت: جس طرح مذکورہ آیات سے اللہ تعالیٰ کا وصفِ استوا ثابت ہوتا ہے، اسی طرح یہ بات ثابت ہوئی کہ اللہ تعالیٰ کی بندوں کے ساتھ معیت علمی ہے، ذاتی نہیں ہے، کیونکہ پہلے تو عمومی علم کا ذکر کیا، پھر معیت کا اور پھر بصارت کا۔ جس آیت میں علم کی معیت کے ساتھ قید ذکر نہیں ہوئی ہے، وہ اصولِ فقہ کے قاعدے کے مطابق مقید آیت پر محمول ہے۔ اسی ثبوت کے پیش نظر روے زمین کے تمام مفسرین، کیا حنفی کیا مالکی کیا شافعی کیا حنبلی، نے معیت کو علمی قرار دیا ہے اور ایسا کہنا ان کے نزدیک اس آیت کی تفسیر ہے، تاویل نہیں ہے۔ اسی طرح آیاتِ احاطہ و قرب وغیرہ کا بھی یہی حکم ہے۔ [1] ما لا بد منہ للقاضي ثناء اللّٰه پانی پتی رحمہ اللّٰه (ص: ۶، ۷) طبع مکتبہ رحمانیہ، اردو بازار، لاہور