کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 122
عزم بالجزم کرے، تا کہ اس کی کھوئی ہوئی سعادت واپس لوٹ سکے۔ فرقہ ناجیہ: اہلِ علم کا اختلاف ہے کہ فرقۂ ناجیہ کون سا فرقہ ہے؟ درآں حالیکہ ہر فرقہ اپنے آپ کو ناجی خیال کرتا ہے۔ اس مسئلے میں ’’إذا جاء نھر اللّٰه بطل نھر معقل‘‘[1]کے مصداق تفسیر نبوی سب اقوال پر مقدم ہے۔ چنانچہ صحیح حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس فرقے کو معین فرما دیا ہے۔ اب کسی کے بیان کی حاجت و ضرورت نہیں ہے۔ وہ تفسیرِ نبوت یہ ہے کہ فرقہ ناجیہ وہ ہے: (( مَا أَنَا عَلَیْہِ وَأَصْحَابِيْ )) (رواہ أہل السنن) [2] [جو اس طریقے پر گامزن ہے جو میرا اور میرے اصحاب کا طریقہ ہے] چنانچہ سنتِ مطہرہ کی کتابوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اقوال، افعال، احوال اور ان کی سیر جمع ہیں، یہاں تک کہ کھانے پینے، سونے، جاگنے اور اٹھنے بیٹھنے کی کیفیت بھی بیان ہوئی ہے تو عبادات و معاملات کا بیان کیسے چھوٹ سکتا ہے؟ کتبِ احادیث میں ان چیزوں کا بیان اس طرح سے ہوا ہے، گویا ہم ان کے ان اعمال کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جس کو سمجھ عطا کی ہو، اس پر اپنے نفس کا حال مخفی نہیں ہے۔ وہ تھوڑی سی توجہ کے ساتھ یہ معلوم کر سکتا ہے کہ وہ سنن و آثار کا متبع ہے یا نہیں؟ اگر وہ ان کا متبع ہے تو یقینا وہ فرقہ ناجیہ کا ایک فرد ہے اور اگر وہ ایسا نہیں تو یقینا وہ فرقہ ناجیہ میں داخل بھی نہیں۔ پھر اسی طرح دوسرے فرقوں کا حال بھی اس پر پوشیدہ نہیں رہ سکتا ہے کہ وہ مبتدع ہیں یا متبع؟ جو شخص اتباع کا دعوے دار ہے اور اپنے آپ کو سنتوں کی اقتدا کرنے والا کہتا ہے تو اس کے افعال و اقوال ہی اس کی تصدیق یا تکذیب کر سکتے ہیں۔ یہ بات جاننا کچھ مشکل نہیں ہے، کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم کا جو حال تھا وہ ہر انسان پر ظاہر ہے۔ متبع کا مبتدع کے ساتھ التباس نہیں ہو سکتا ہے۔ نیز حدیث: (( طُوْبٰی لِلْغُرَبَائِ )) [3] [غربا کے لیے خیر وبھلائی ہے] اور حدیث: [1] جب اللہ تعالیٰ کی نہر (بارش) چلتی ہے تو معقل کی نہر بے کار ہو جاتی ہے۔ [2] سنن الترمذي، رقم الحدیث (۲۶۴۱) [3] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۴۵)