کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 120
اعتبار سے ہے نہ کہ اصلاحی طور پر۔ توبہ کی ترغیب: بندے کو ہمیشہ اللہ کے سامنے تو بہ بجا لانے کا حکم ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ وَتُوْبُوْٓا اِِلَی اللّٰہِ جَمِیْعًا﴾[النور: ۳۱] [اور تم سب اللہ کی طرف توبہ کرو] صحیح بخاری میں آیا ہے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر روز ستر مرتبہ سے زیادہ توبہ و استغفار کیا کرتے تھے۔[1] جس شخص کو یہ گمان ہے کہ گناہ پر اصرار مضر نہیں ہے، وہ گمراہ ہے اور کتاب و سنت اور سلفِ امت و ائمہ ملت کے اجماع کا مخالف ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ﴾[الزلزال: ۸] [اور جو شخص ایک ذرہ برابر برائی کرے گا اسے دیکھ لے گا] اور جس شخص نے یہ خیال کیا کہ گناہ گاروں کے لیے تقدیر حجت ہے، وہ مشرک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق ارشاد فرمایا ہے: ﴿ سَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا لَوْشَآئَ اللّٰہُ مَآ اَشْرَکْنَا وَلَآ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ شَیْئٍ﴾[الأنعام: ۱۴۹] [عنقریب وہ لوگ کہیں گے جنھوں نے شریک بنائے ہیں، اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شریک بناتے اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم کوئی چیز حرام ٹھہراتے] اگر تقدیر گناہوں کے لیے حجت و دلیل ہوتی تو جن قوموں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی، جیسے قومِ نوح، قومِ عاد اور قومِ ثمود وغیرہ تو اللہ تعالیٰ ان کو عذاب میں مبتلا کرتا نہ حد سے تجاوز کرنے والوں پر اقامتِ حدود کا حکم دیتا۔ توبہ کی قبولیت: توبہ کرنے والے سے گناہ کی سزا کا ساقط کر دینا اللہ تعالیٰ پر عقلاً واجب نہیں ہے، بلکہ معاف کر دینا تو محض اس کا فضل و کرم ہے۔ باقی رہی یہ بات کہ توبہ کا قبول کرنا شرعاً واقع ہوتا ہے یا نہیں؟ [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۵۹۴۸) جبکہ صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۷۰۲) میں یہ الفاظ ہیں: (( وإني لأستغفر اللّٰه في الیوم مائۃ مرۃ )) [بلا شبہہ میں دن میں سو مرتبہ استغفار کرتا ہوں]