کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 115
وہ بھی اس وقت جب کتاب وسنت کی کوئی متصادم دلیل نہ ہو اور وہ محض رائے ہونے سے مبرا ہو، کیوں کہ قیاس کرنا تو مجتہد کا کام ہے نہ کہ ہر عامی و عالم کا۔ شریعت میں رائے کا دخل اس کی تحریف کرنے کے مترادف ہے، صرف قضا میں رائے قابل قدر ہے۔ علم تین چیزوں سے عبارت ہے: آیت محکمہ، سنتِ قائمہ اور فریضۂ عادلہ؛ اس کے سوا جو کچھ ہے وہ فضول اور بے سود ہے۔ شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے، ’’حجۃ اللّٰه البالغۃ‘‘ میں کہا ہے: ’’ھذا ضبط و تحدید لما یجب علیھم بالکفایۃ‘‘[1] انتھیٰ۔ [یہ وہ ضبط و تحدید ہے جو ان پر واجب کفائی ہے] قرآن وحدیث کی نصوص اپنے ظاہر پر محمول ہیں: قرآن و حدیث کی نصوص اپنے ظاہر پر محمول ہیں، جب تک کوئی قطعی دلیل ان کو ظاہر سے نہ پھیر دے، خواہ وہ نصوص جہت اور جسمیت ہی کو کیوں نہ بتاتی اور ثابت کرتی ہوں۔ اس سلسلے میں فرمانِ باری تعالیٰ: ﴿ لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْئٌ﴾[الشوریٰ: ۱۱] [اس کی مثل کوئی چیز نہیں] فوری طور پر ذہن میں پیدا ہونے والے وہم کو دور کرنے کے لیے کافی ہے۔ صوفیہ کی وہ تفسیر جو جمہور مفسرین کے خلاف ہو غیر مقبول ہے۔ اس مقام پر اولیاے کاملین اور علماے عالمین کی تصریح کے مطابق قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ جس مسئلے میں علما و مشائخ کا اختلاف ہوتا ہے، اس جگہ حق وہ ہے جس پر علماے دین گامزن ہیں۔ اسی طرح جس مسئلے میں اہلِ رائے فقہااور محدثین کا اختلاف ہوتا ہے، وہاں حق اہلِ حدیث کے ساتھ ہوا کرتا ہے، کیونکہ یہ لوگ اہلِ رسول اللہ اور قدوۂ امت ہیں۔ قیامِ خلافت: مسلمانوں کے لیے ایک امام اور خلیفہ کا ہونا ضروری ہے۔ امام کا کام یہ ہے کہ وہ احکام جاری کرے، حدود قائم کرے، سرحدوں کی حفاظت کرے، لشکرِ اسلام تیار کرے، صدقات و صول کرے، بے فیض اور زبردستی قابض لوگوں کو زیر کر کے رکھے، راہزنوں کو سزا دے، جمعہ، جماعات اور عیدوں کو قائم کرے، لڑائیوں کو ختم اور جھگڑوں کا فیصلہ کیا کرے، حقوق کی بابت گواہیوں کی سماعت کرے، لا وارث لڑکے لڑکیوں کی شادی کر دے، غنائم کی تقسیم کرے اور اس طرح کے دیگر انتظامی امور انجام [1] حجۃ اللّٰہ البالغۃ (۱/ ۳۶۲)