کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 114
کیا ہے۔ بہر حال اگر تقلید کی ممانعت پر اجماع نہ بھی ہو تو جمہور کا مذہب تو ضرور ہے اور تقلید کے عدمِ جواز پر اجماع کی حکایت اس مذہب کی تائید کرتی ہے۔ مجتہد اپنی رائے پر تب عمل کر سکتا ہے جب دلیل موجود نہ ہو۔ کسی دوسرے کو اس کے اجتہاد پر چلنا روا اور جائز نہیں ہے۔ ’’فھذان الإجماعان یجتثان التقلید من أصلہ‘‘[1] وللّٰہ الحمد۔ [پس یہ دونوں اجماع تقلید کو جڑ سے اکھاڑ دیتے ہیں] قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے جا بجا دین و رسم کے مقلدین کی مذمت فرمائی ہے۔ عامی کے لیے تقلید شخصی کا حکم: عامی پر ہر واقعے میں معین مذہب کا التزام واجب ہے یا نہیں؟ اس کے متعلق دو قول ہیں اور دونوں قولوں کی ایک جماعت قائل ہے۔ راجح قول یہ ہے کہ اس پر واجب نہیں ہے۔ ابن برہان اور نووی رحمہما اللہ اسی طرف گئے ہیں اور یہی حق ہے۔ مقلد کا ایمان: ایسے مقلد کا ایمان، جس کے پاس دلیل نہیں ہے، صحیح ہے اور بعض فقہا نے اس پر اجماع نقل کیا ہے اور یہی حق ہے۔ بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مجمل ایمان پر اکتفا کیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں معرفتِ دلیل کا مکلف نہیں ٹھہرایا تھا۔ اجماع: نفس الامر میں اجماع ممکن ہے، لیکن اس کا وجود مشکل ہے۔ فقہا کی یہ سہل انگاری اور کاہلی ہے کہ وہ جس جگہ اختلاف نہیں پاتے، اجماع کا دعوی کر دیتے ہیں، اسی لیے امام احمد رحمہ اللہ وغیرہ اہلِ علم، اہلِ دین اور اہلِ تحقیق کی ایک جماعت نے وجودِ اجماع کا انکار کیا ہے۔ پھر اجماع کی بنیاد کتاب وسنت ہوتی ہے اور مجتہدینِ امت کا اجماع معتبر ہوتا ہے نہ کہ عامۂ امت کا، پھر اگر ایک بھی مجتہد نے اختلاف کر دیا تو اجماع نہ رہا۔ قیاس: ہر قیاس کرنے والے کا قیاس معتبر نہیں، بلکہ صرف مجتہد عالم کا قیاسِ جلی ہی معتبر ہوتا ہے اور [1] إرشاد الفحول (۲/۲۴۴)