کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 109
﴿ لَا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰہُ﴾[النمل: ۶۵] [اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہے، غیب نہیں جانتا] ایک حدیث میں آیا ہے: (( مَنْ أَتٰی کَاھِناً فَصَدَّقَہٗ فَقَدْ کَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلٰی مُحَمَّدٍ صلی اللّٰہ علیہ وسلم )) [1] [جو شخص کسی کاہن کے پاس گیا اور اس کی (بتائی ہوئی غیبی خبر کی) تصدیق کی تو اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری گئی شریعت کے ساتھ کفر کیا] یہی حکم رمّال ، جفار اور فال نکالنے والے کا ہے۔ نیز یہ کہنا کہ اولیا کو علمِ غیب ہے، کفر ہے۔ قبولیتِ دعا: زندوں کا مردوں کے حق میں دعا کرنا اور ان کی طرف سے صدقہ کرنا مفید ہے۔ اللہ تعالیٰ دعاؤں کو قبول کرنے والا اور حاجات کو پورا کرنے والا ہے۔ البتہ کافر کی دعا کی قبولیت میں اختلاف ہے۔ جنوں کو عذاب وثواب ہو گا: اس بات پر اتفاق ہے کہ جنوں میں سے جو کافر ہیں، انھیں بھی آگ کا عذاب دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ لَاَمْلَئَنَّ جَھَنَّمَ مِنَ الْجِنَّۃِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ﴾[ھود: ۱۱۹] [میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے ضرور ہی بھروں گا] اسی طرح مومن جن جنت میں جائیں گے۔ امام محمد اور قاضی ابو یوسف رحمہما اللہ کا یہی قول ہے۔ قدر کا غلبہ: سعادت مند مومن کبھی انجام کار مرتد ہو کر بدبخت بن جاتا ہے اور اسی طرح افعالِ سعادت سر انجام دینے کے ساتھ بد بخت کبھی نیک بخت بن جاتا ہے۔ علاماتِ قیامت حق ہیں: قیامت کی وہ نشانیاں جن کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے، سب حق ہیں، جیسے: غربتِ اسلام، قلتِ علم، کثرتِ جہل، ہرج و مرج، خروجِ دجال، خروج دابۃالارض، خروجِ یاجوج ماجوج، نزولِ عیسیٰ علیہ السلام اور طلوعِ آفتاب از طرف مغرب وغیرہ آیات صغریٰ و فتن کبریٰ۔ [1] سنن أبي داؤد (۳۹۰۴) سنن الترمذي (۱۳۵) سنن ابن ماجہ (۶۳۹)