کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 107
تھی۔ اب جو شخص جس طرح بھی قیامِ رمضان کرے گا، وہی بہتر ہے۔ ومن زاد زاد اللّٰہ في حسناتہ۔ رہی افضلیت تو یہ قیام کرنے والوں کے مختلف احوال کے پیش نظر مختلف ہے۔ جو لوگ لمبے قیام کے متحمل ہوں، وہ دس رکعت مع تین رکعت وتر پڑھیں، جس طرح رمضان اور غیر رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا اور یہی افضل ہے۔ اگر وہ لمبے قیام کی استطاعت نہ رکھے تو بیس رکعت افضل ہیں، اکثر مسلمانوں کا عمل اسی پر ہے۔ رکعات کی یہی تعداد دس اور چالیس کے عدد کے درمیان ہے۔ اگر چالیس یا اس سے بھی زیادہ پڑھے تو بھی جائز ہے۔[1] فاجر کی امامت: ہر نیک و بد اور فاجر و صالح مومن کے پیچھے نماز ادا کرنا جائز ہے۔ اکثر علما کے نزدیک اس نماز کا تارک بدعتی ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ وغیرہ نے ولید بن عقبہ کے پیچھے نماز ادا کی تھی، حالانکہ وہ شراب پیتا تھا۔ ہاں سلف نے مبتدع کے پیچھے نماز ادا کرنے کو مکروہ کہا ہے۔ اسی طرح ہر نیک و بد کی نماز جنازہ ادا کرے سوائے اس کے جسے شریعت نے خاص کر دیا ہے، جیسے غال یعنی مالِ غنیمت میں سے خیانت کرنے والا، قاتل نفس یعنی خودکشی کرنے والا، کافر اور شہید۔[2] نیز قبر پر اور غائبانہ نماز جنازہ ادا کرنا درست ہے۔ ولایت ونبوت: مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ کوئی ولی نبی کے درجے کو نہیں پہنچتا ہے۔ بعض صوفیہ کا یہ قول کہ ولایت نبوت سے افضل ہے، مردود ہے۔ اس طرح یہ قول بھی مردود ہے کہ خاتمِ اولیا افضل اولیا ہے۔ [1] ور تمیم داری رضی اللہ عنہما لوگوں کو رمضان میں گیارہ رکعات پڑھایا کرتے تھے۔ بیس رکعت والی روایت ضعیف ہے، کیونکہ اس کی سند میں انقطاع ہے۔  مگر راجح بات وہی ہے جو صحیح البخاری اور صحیح مسلم کی متفق علیہ حدیث سے ثابت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: (( ما کان رسول اللّٰه یزید في رمضان ولا في غیرہ علی إحدی عشرۃ رکعۃً )) صحیح البخاري، رقم الحدیث (۱۰۹۶)، صحیح مسلم، رقم الحدیث (۷۳۸) [2] قاتلِ نفس وغیرہ کبیرہ گناہ کے مرتکب کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو ان کی نماز جنازہ پڑھنے کا حکم دیا تھا، اگرچہ بطورِ تہدید خود نمازِ جنازہ پڑھانے سے گریز فرمایا۔