کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 106
ہر شخص اپنا مقرر رزق کھا کر فوت ہوتا ہے: ہر شخص دنیا میں اپنا رزق پورا کرتا ہے اور کوئی شخص کسی غیر کا رزق نہیں کھا سکتا۔ رزق حرام کھانے پر عذاب، رزقِ حلال پر حساب اور شبہے والے رزق پر عتاب ہو گا۔ قتل مقدر کی موت ہے: قتل ہونے والا اپنی مقدر کی ہوئی موت ہی سے مرا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَاِذَا جَآئَ اَجَلُھُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَۃً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ﴾[الأعراف: ۳۴] [پھر جب ان کا وقت آ جاتا ہے تو ایک گھڑی نہ پیچھے رہتے ہیں اور نہ آ گے بڑھتے ہیں] نیز یہ کہ موت میت کے ساتھ قائم ہے اور اللہ کی مخلوق ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا﴾[الملک: ۲] [موت اور زندگی کو پیدا کیا، تا کہ تمھیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل میں زیادہ اچھا ہے] موت اور اجل ایک ہی چیز ہے۔ موزوں پر مسح کرنا: سفر وحضر میں موزوں پر مسح کرنا مقیم کے لیے ایک دن اور رات، جب کہ مسافر کے لیے تین دن اور راتیں سنت صحیحہ متواترہ سے ثابت ہے۔ قیامِ رمضان: رمضان کی راتوں کا قیام، جسے عرفِ عام میں تروایح کہا جاتا ہے، رکعات کی تعداد متعین کیے بغیر سنتِ صحیحہ سے ثابت ہے اور نفل نماز با جماعت ادا کرنا جائز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان اور غیر رمضان میں تیرہ رکعت سے زیادہ قیام نہیں کیا تھا جن میں وتر بھی شامل تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ رکعات لمبی لمبی ادا کرتے تھے۔ پھر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اُبی بن کعب سے تخفیف کے ساتھ بیس رکعتیں پڑھوائیں۔[1] سلف میں بعض لوگ چالیس اور بعض چھتیس رکعتیں پڑھتے تھے اور یہ بات ان میں عام و شائع [1] موطأ الإمام مالک (۱/۱۱۵) میں صحیح سند کے ساتھ مروی ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے حکم سے ابی بن کعب (