کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 105
اور جماعت اہلِ حدیث کا کہنا ہے کہ ایمان غیر مخلوق ہے۔ ایمان کے کم اور زیادہ ہونے کی بحث لفظی نزاع کی طرف راجع ہوتی ہے۔ بندوں کے افعال مخلوق ہیں: بندے کے سارے اختیاری افعال اللہ کی مخلوق ہیں۔ اللہ کی سنت جاریہ ہے کہ جب بندہ کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس فعل کو ایجاد فرما دیتا ہے۔ اسی صورت و قدرت کی بنیاد پر بندے کو کاسب کہتے ہیں اور اس پر مدح و ذم اور ثواب و عقاب مرتب ہوتا ہے۔ حرکتِ جماد اور حرکتِ انسان کے درمیان فرق کرنا کفر، خلافِ شرع اور بداہتِ عقل کے خلاف ہے۔ غیر اللہ کو کسی چیز کا خالق ماننا اور اعتقاد کرنا کفر ہے، اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرقہ قدریہ کو اس امت کا مجوسی فرقہ قرار دیا ہے۔[1] بندے کو اپنے اختیاری افعال میں کچھ اختیار نہیں ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک آدمی پتھر پھینکنے کا ارادہ کرے، اب اگر وہ قادر حکیم ہوتا تو پتھر کے اندر حرکتِ اختیار بھی پیدا کر دیتا۔ مرتکبِ کبیرہ دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا: کبیرہ گناہ انسان کو ایمان سے خارج نہیں کرتا، جس طرح معتزلہ نے کہا ہے، کیوں کہ کبیرہ گناہ کے ارتکاب کے باوجود تصدیق باقی ہے۔ کبیرہ گناہ سے آدمی کافر نہیں ہو جاتا، جس طرح خوارج کہتے ہیں، بلکہ وہ نافرمان مومن، بد عمل مسلمان اور اپنے نفس پر ظلم کرنے والا ہے۔ گناہ گار مسلمان جہنم سے نکال لیے جائیں گے: کفار جہنم کی آگ میں ہمیشہ عذاب میں مبتلا رہیں گے اور گناہ گار مسلمان اگر جہنم میں جائیں گے تو جلد یا بدیر اس سے باہر نکل آئیں گے، پھر ہمیشہ جنت میں رہیں گے۔ اتباعِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم: اتباع صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص ہے، لہٰذا بندۂ مومن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی خبر پر ایمان لائے، اس پر عمل کرے اور جس چیز سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے، اس سے باز رہے۔ جس شخص کا قول و فعل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل سے بال برابر بھی خلاف ہو، اسے رد کر دے۔ نیت و ارادے میں تفاوت اور فرق کے حسبِ حال تقلید شرک ہے یا کم از کم حرام ہے۔ [1] سنن أبي داؤد، رقم الحدیث (۴۶۹۱)