کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 100
دوسری جہت مخلوق کو دینے کی۔ بنا بریں شیخین کو عطاے خلق، لوگوں کی تالیف، ان کو اکٹھا کرنے اور جنگ کی تدبیر کرنے میں ید طولیٰ حاصل تھا، اس اعتبار سے گویا وہ دو وزیرِ نبوت تھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر طعن کرنا کفر ہے: ہم خیرو بھلائی کے علاوہ کسی چیز کے ساتھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ذکر کرنے سے اپنی زبانوں کو روکتے ہیں، کیونکہ وہ دین میں ہمارے امام و پیشوا ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ان کی ثنا اور تعریف کی ہے اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ سچا کون ہو سکتا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو برا کہنا حرام ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( لَا تَسُبُّوْا أَصْحَابِيْ )) (رواہ الشیخان) [1] [میرے صحابہ رضی اللہ عنہم کو گالی مت دو] جمہور کا موقف ہے کہ صحابہ کی بد گوئی کرنے والا اس لائق ہے کہ اسے تعزیر لگائی جائے اور بعض مالکیہ کا مذہب ہے کہ اس کی سزا قتل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق فرمایا ہے: ﴿ لِیَغِیْظَ بِھِمُ الْکُفَّارَ﴾[الفتح: ۲۹] [تا کہ وہ ان کے ذریعے کافروں کو غصہ دلائے] اس آیت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بغض رکھنے والے اہلِ غیظ پر کفر کا اطلاق کیا گیا ہے۔ تفتازانی رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر کیا ہوا دشنام اور طعن اگرادلۂ قطعیہ کے خلاف ہے تو کفر ہے، جیسے عائشہ رضی اللہ عنہا پر بدکاری کی تہمت لگانا، ورنہ بدعت اور فسق ہے۔[2] صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعظیم کرنا اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اس کو واجب کرنے کی وجہ سے امت مرحومہ پر واجب اور لازم ہے۔ یہ وجوب کتاب و سنت سے مفہوم ہوتا ہے۔ مسئلہ تکفیر: ہم کسی اہلِ قبلہ کو کافر نہیں کہتے۔ اہلِ قبلہ سے وہ لوگ مراد ہیں جو ضروریاتِ دین پر متفق ہیں، جیسے: حدوثِ عالم، حشرِ اجساد اور اللہ تعالیٰ کو تمام کلیات اور جزئیات کا علم ہونا وغیرہ۔ اب جو شخص عمر بھر طاعات و عبادات پر ہمیشہ کار بند رہے، مگر قِدم عالم، نفیِ حشر یا اللہ تعالیٰ کو تمام جزئیات کے علم کی نفی کا معتقد ہو، وہ اہلِ قبلہ نہیں ہے۔ ان کی عدمِ تکفیر سے مراد یہ ہے کہ جب تک ان کی طرف سے [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۳۴۷۰) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۵۴۰) [2] شرح العقائد النسفیۃ للتفتازاني (ص: ۱۶۲، ۱۶۳) مکتبہ حقانیہ، ملتان۔